دیباچہ تفسیر القرآن — Page 268
اِن قوموں کے شہروں میں جنہیں خدا وند تیرا خدا تیری میراث کر دیتا ہے کسی چیز کو جو سانس لیتی ہے جیتا نہ چھوڑیو۔بلکہ تو اُن کو حرم کیجیؤ۔حتی اور اموری اور کنعانی اور فزری اور جوی اور یبوسی کو جیساکہ خد اوند تیرے خدا نے تجھے حکم کیا ہے تا کہ وے اپنے سارے کریہہ کاموں کے مطابق جو اُنہوں نے اپنے معبودوں سے کئے تم کو عمل کرنا نہ سکھائیں اور کہ تم خداوند اپنے خدا کے گنہگار ہو جائو‘‘۔۲۹۶؎ بائبل کے اس فیصلہ سے ظاہر ہے کہ اگر یہودی جیت جاتے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہار جاتے تو بائبل کے اس فیصلہ کے مطابق اوّل تو تماممسلمان قتل کر دیئے جاتے۔مرد بھی اور عورت بھی اور بچے بھی۔اور جیساکہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودیوں کا یہی ارادہ تھا کہ مردوں ، عورتوں اور بچوں سب کو یکدم قتل کر دیا جائے لیکن اگر وہ اُن سے بڑی سے بڑی رعایت کرتے تب بھی کتاب استثناء کے مذکورہ بالا فیصلہ کے مطابق وہ اُن سے دُور کے ملکوں والی قوموں کا سا سلوک کرتے اور تمام مردوں کو قتل کر دیتے اور عورتوں اور لڑکوں اور سامانوں کو لوٹ لیتے۔سعدؓ نے جو بنو قریظہ کے حلیف تھے اوراُن کے دوستوں میں سے تھے جب دیکھا کہ یہود نے اسلامی شریعت کے مطابق جو یقینا اُن کی جان کی حفاظت کرتی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کو تسلیم نہیں کیا تو انہوں نے وہی فیصلہ یہود کے متعلق کیا جو موسیٰ نے استثناء میں پہلے سے ایسے مواقع کے لئے کر چھوڑا تھا اور اس فیصلہ کی ذمہ داری محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یامسلمانوں پر نہیں، بلکہ موسیٰ پر اور تورات پراور اُن یہودیوں پر ہے جنہوں نے غیرقوموں کے ساتھ ہزاروں سال اس طرح معاملہ کیا تھا اور جن کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحم کے لئے بلایا گیاتو انہوں نے انکار کر دیااور کہا ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں، ہم سعدؓ کی بات مانیں گے۔جب سعدؓ نے موسٰی ؑ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ دیا تو آج عیسائی دنیا شور مچاتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم کیا۔کیا عیسائی مصنف اِس بات کو نہیں دیکھتے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دوسرے موقع پر کیوں ظلم نہ کیا؟ سینکڑوں دفعہ دشمن نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحم پر اپنے آپ کو چھوڑا ا ور ہر دفعہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو معاف کر دیا۔یہ ایک ہی موقع ہے کہ دشمن نے