دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 241

نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت شراب پینا منع فرما دیا ہے۔اُن میں سے ایک شخص اُٹھا اور بولا یہ تو شراب کے امتناع کا حکم معلوم ہوتا ہے۔ٹھہرو معلو م کر لیں۔اتنے میں ایک اور شخص اُٹھا اور اُس نے مٹکے کو جو شراب سے بھرا ہوا تھااپنی لاٹھی مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہا پہلے حکم کی تعمیل کرو اور پھر دریافت کرو۔یہ کافی ہے کہ ہم نے ایسا اعلان سن لیا اور یہ مناسب نہیں کہ ہم شراب پیتے جائیں اور تحقیقات کریں بلکہ ہمارا فرض یہ ہے کہ شراب کو گلیوں میں بہہ جانے دیںاور پھر اعلان کے متعلق تحقیقات کریں۔۲۷۰؎ اس مسلمان کا خیال درست تھا ، کیونکہ اگر شراب کا پیا جانا ممنوع قرار دیا جا چکا تھاتو اس کے بعد اگر وہ شراب پینا جاری رکھتے تو ایک جرم کے مرتکب ہوتے اور اگر شراب پینا ممنوع نہیں قرار دیا گیا تھاتو شراب کا بہا دینا اِتنا بڑا نقصان نہ تھا کہ اُسے برداشت نہ کیا جا سکتا۔اس اعلان کے بعد شراب نوشی مسلمانوں سے بالکل دور ہو گئی۔اس انقلابِ عظیم کو برپا کرنے کے لئے کوئی خاص کوشش اور مجاہدہ کی ضرورت نہیں پڑی۔ایسے مسلمان جنہوں نے اِس حکم کو سُنا اور جو فوری تعمیل اِس کی ہوئی اُس کو دیکھا،ستّر اسّی سال تک زندہ رہے مگر اُن میں سے ایک مسلمان بھی ایسا نہیں جس نے اس حکم کے بعد اس کی خلاف ورزی کی ہو ،اگر ایسا کوئی واقعہ ہوا ہے تو وہ ایسے شخص کے متعلق ہے جس نے براہِ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ نہ کیا تھا۔جب ہم اس کا مقابلہ امریکہ کی تحریک امتناعِ شراب سے کرتے ہیں اور ان کو ششوں کو دیکھتے ہیں جو اس حکم کو نافذ کر نے کے لئے کی گئیںیا جو سالہا سال تک یورپ میں کی گئیں،تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ ایک صورت میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محض ایک اعلان کافی تھا کہ اس تمدّنی عیب کو عرب کے لوگوں سے معدوم کردے۔مگر دوسری صورت میں امتناعِ شراب کے لئے قوانین بنائے گئے۔پولیس، فوج اور ٹیکس کے محکموں کے کارکنوں نے مل کر شراب نوشی کی لعنت کو دور کرنے کے لئے متحدہ طور پر کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے اور انہیں اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا پڑا۔شراب نوشی کی جیت رہی اور شراب نوشی کو دُور نہ کی جا سکی۔ہمارے اِس زمانہ کو ایک ترقی کا زمانہ کہتے ہیں مگر جب اس کا مقابلہ ابتدائے اِسلام کے زمانہ سے کرتے ہیں تو ہم حیران ہو جاتے ہیںکہ ان دونوں میں سے ترقی کا زمانہ کونسا ہے۔ہمارا یہ زمانہ یا اِسلام کا