دیباچہ تفسیر القرآن — Page 213
یہ کتنی عظیم الشان کامیابی تھی کہ مکہ سے ہجرت کرنے کے چند دنوں بعد ہی خد اتعالیٰ نے اُن کے ذریعہ سے ایک شہر کو پورے طور پر خدائے قادر کا پرستار بنا دیا جس میں اور کسی بت کی پوجا نہیں کی جاتی تھی، نہ ظاہری بت کی نہ باطنی بت کی لیکن اس تبدیلی سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ مسلمانوں کے لئے اب امن آگیا تھا۔مدینہ میں عربوں میںسے بھی ایک جماعت منافقوں کی ایسی موجود تھی جو آپ کی جان کی دشمن تھی اور یہود بھی ریشہ دوانیاں کر رہے تھے۔چنانچہ اِس خطرہ کو محسوس کرتے ہوئے آپ خود بھی چوکس رہتے تھے اور اپنے ساتھیوں کو بھی چوکس رہنے کی تاکید کرتے تھے۔شروع میں بعض دن ایسے بھی آئے کہ آ پ کو رات بھر جاگنا پڑا۔ایک دفعہ ایسی ہی حالت میں جب آپ کو جاگتے رہنے سے تھکان محسوس ہوئی تو آپ نے فرمایا اِس وقت کوئی مخلص آدمی پہرہ دیتا تو میں سو جاتا۔تھوڑی ہی دیر میں ہتھیاروں کی جھنکار سنائی دی آپ نے پوچھا کون ہے؟ تو آواز آئی یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! میں سعد بن وقاص ہوں جو آپ کا پہرہ دینے کے لئے آیا ہوں۔۲۴۳؎ اِس پر آپ نے آرام فرمایا۔انصار کو خود بھی یہ محسوس ہو رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی رہائش ہم پر بہت بڑی ذمہ واری ڈالتی ہے اور یہ کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں دشمنوں کے حملوں سے محفوظ نہیں چنانچہ انہوںنے باہمی فیصلہ کر کے مختلف قبائل کی باریاں مقرر کر دیں۔ہر قبیلہ کے کچھ لوگ باری باری آپ کے گھر کا پہرہ دیتے تھے۔غرض مکی زندگی اور مدنی زندگی میں اگر کوئی فرق تھا تو صرف یہ کہ اب مسلمان خدا کے نام پر قائم کی ہوئی مسجد میں بغیر دوسرے لوگوں کی دخل اندازی کے پانچوں وقت نمازیں پڑھ سکتے تھے۔مکہ والوں کی مسلمانوں کو دوبارہ دُکھ دینے کی تدبیریں دو تین مہینے گزرنے کے بعد مکہ کے لوگوں کی پریشانی دُور ہوئی اور اُنہوں نے نئے سرے سے مسلمانوں کو دکھ دینے کی تدابیر سوچنی شروع کیں۔مگر مشورہ کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ صرف مکہ اور گرد و نواح میں مسلمانوں کو تکلیف دینا اُنہیں اپنے مقصد میں کامیاب نہیں کر سکتا۔وہ اِسلام کو تبھی مٹا سکتے ہیں جب