دیباچہ تفسیر القرآن — Page 152
پھر یہ بھی بتایا گیا تھا کہ وہ روحِ حق جب آئے گی تو وہ ساری سچائی کی راہیں بتائے گی۔اور یہ بتایا گیا تھا کہ اُس کی الہامی کتاب میں کوئی انسانی کلام نہیں ہو گا بلکہ شروع سے لے کر آخر تک خدائی کلام ہی اُس میں ہو گا۔پھر یہ بتایا گیا تھا کہ وہ آئندہ کی خبریں دے گا اور یہ بھی کہ وہ مسیح کی بزرگی بیان کرے گا اور جو عیب اُس پرلگائے گئے ہیں اُن کو دور کرے گا۔یہ پیشگوئی واضح طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صادق آتی ہے۔اِس میں کہا گیا ہے کہ جب تک مسیح آسمان پر نہ جائے، وہ تسلی دلانے والا نہیں آسکتا۔اعمال باب ۳ آیت ۲۱،۲۲ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کے آسمان پر جانے کے اور اس کے دوبارہ نازل ہونے کے درمیان استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ کے موعود کو پیدا ہونا ہے پس تسلی دلانے والے سے مراد استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ والا موعود ہی ہے۔پھر لکھا ہے کہ وہ موعود مسیح کے منکروں کو ملامت کرے گا۔اِس سے مراد عیسائی تو ہو نہیں سکتے۔کسی شخص کے متبع تو اُس کے دشمنوں کو ملامت کیا ہی کرتے ہیں۔یہ علامت بتارہی ہے کہ وہ موعود کسی غیر قوم کا ہوگا اور بظاہر اُس کو مسیح کے ساتھ کوئی نسلی یا مِلّی تعلق نہیں ہوگا مگر اِس وجہ سے کہ وہ راستبازہوگا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگا غیر قوم میں سے ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے آپ کو راستبازوں کی عزت کا نگران سمجھے گا اور اُن کی عزّت کی حفاظت کرے گا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسماعیلی نبی تھے۔عیسائی یا یہودی نہیں تھے۔مگر باوجود اس کے دیکھو کس طرح اُنہوں نے مسیح کی عزّت کی حفاظت کی۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں یہود کی نسبت فرماتا ہے۔۔۱۷۹؎ یعنی یہود کے کفرکی وجہ سے اور اُن کے حضرت مریم پر نہایت گندہ الزام لگانے کی وجہ سے اور اُن کے اِس قول کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح ابن مریم کو قتل کردیا ہے جواللہ کا رسول تھا حالانکہ