دیباچہ تفسیر القرآن — Page 142
تمام زمین پر حکومت کرے گی اور چوتھی سلطنت لوہے کی مانند مضبوط ہوگی اورجس طرح کہ لوہا توڑ ڈالتا ہے اور سب چیزوں پر غالب ہوتا ہے ہاں لوہے کی طرح سے جو سب چیزوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے اُس ہی طرح وہ ٹکڑے ٹکڑے کرے گی اور کچل ڈالے گی اور جو کہ تو نے دیکھا کہ اُس کے پائوں اور اُنگلیاں کچھ تو کمہار کی ماٹی کی اور کچھ لوہے کی تھیں تو اس سلطنت میں تفرقہ ہو گا۔مگر جیسا کہ تُو نے دیکھا کہ اس میں لوہا گلادے۱۶۹؎ سے ملا ہو ا تھا۔سو لوہے کی توانائی اُس میں ہوگی اور جیساکہ پائوں کی اُنگلیاں کچھ لوہے کی اور کچھ ماٹی کی تھیں سو وہ سلطنت کچھ قوی کچھ ضعیف ہو گی اور جیسا تُو نے دیکھا کہ لوہا گلاوے سے ملا ہوا ہے وے اپنے انسان کی نسل سے ملاویں گے لیکن جیسا لوہا مٹی سے میل نہیں کھاتا تیسا وے باہم میل نہ کھاویں گے اور اُن بادشاہوں کے ایام میں آسمان کا خد ا ایک سلطنت برپا کرے گا جو تا ابد نیست نہ ہووے گی اور وہ سلطنت دوسری قوم کے قبضہ میں نہ پڑے گی وہ اُن سب مملکتوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور نیست کرے گی اور وہی تااَبد قائم رہے گی جیسا کہ تُو نے دیکھا کہ وہ پتھر بغیر اس کے کہ کوئی ہاتھ سے اُس کو پہاڑ سے کاٹ نکالے آپ سے آپ نکلا اور اُس نے لوہے اور تانبے اور مٹی اور چاندی اور سونے کو ٹکڑے ٹکڑے کیا۔خد اتعالیٰ نے بادشاہ کو وہ کچھ دکھایا جو آگے کو ہونے والا ہے اور یہ خواب یقینی ہے اور اُس کی تعبیر یقینی‘‘۔۱۷۰؎ اِس تعبیر میں خود حضرت دانیال نے سونے کے سر سے بابل کا بادشاہ مراد لیا ہے۔چاندی کے سینہ اور چاندی کے بازو سے مراد فارس اور مادہ کی حکومت تھی جو بابل کی بادشاہت کے بعد آئی۔تانبے کی رانوں سے مراد سکندر کی حکومت تھی جو اُس کے بعد دنیا پر غالب ہوا۔اور لوہے کی ٹانگوں سے مراد روما کی حکومت تھی جو ایرانی حکومت کے تنزل کے وقت دنیا میں طاقتور ہوئی۔اِس آخری حکومت کے متعلق لکھا ہے ’’ اُس کے پائوں کچھ لوہے اور کچھ مٹی کے تھے‘‘۔جس کی تعبیر یہ تھی کہ یہ حکومت ایشیا سے یورپ میں پھیل جائے گی۔لوہے کی ٹانگوں سے مراد یوروپین حکومت ہے کہ وہ بوجہ ایک قوم اور ایک مذہب ہونے کے زیادہ مضبوط تھی لیکن پائوں