دیباچہ تفسیر القرآن — Page 143
مٹی اور لوہے کے مشترک بنے ہوئے تھے۔لیکن وہ یورپین قوم بعض مشرقی اقوام کو فتح کر کے ایک شہنشاہیت کی صورت اختیار کر لے گی اور جیسا کہ شہنشاہیتوں کا قاعدہ ہے وہ اپنی وسعت اور سامانوں کی فراہمی کے لحاظ سے قوی ہوتی ہیں لیکن غیر قوموں کے اشتراک کی وجہ سے اُن میں ضعف بھی پیدا ہو جاتا ہے وہ حکومت اپنے آخری زمانہ میں بوجہ غیر قوموں کی شمولیت کے کمزوری کی طرف مائل ہو جائے گی۔اِس کے بعد لکھا ہے:۔’’ ایک پتھر بغیر اس کے کوئی ہاتھ سے کاٹ کے نکالے آپ سے آپ نکلا جو اُس شکل کے پائوں پر جو لوہے اور مٹی کے تھے لگااور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کیا تب لوہا اور مٹی اور تانبا اور چاندی اور سونا ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور تابستانی کھلیان کی بھوسی کے مانند ہوئے اور ہوا انہیں اڑا لے گئی یہاں تک کہ اُن کا پتہ نہ ملا اور وہ پتھر جس نے اُس مورت کو مارا ایک بڑا پہاڑ بن گیا اور تمام زمین کو بھر دیا‘‘ـ۔اِن الفاظ میں محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اتباع کی خبر دی گئی ہے۔آپ کی جماعت کا ٹکرائو پہلے قیصر روما سے اور پھر ایران کی حکومت سے ہوا۔اور جب قیصر روما سے آپ کی جماعت کا ٹکرائو ہوا اُس وقت وہ سکندر کی وراثت پر بھی قابض تھا اورروما کی وراثت کا بھی وارث تھا اورجب آپ کا ٹکر ائو ایرانی حکومت سے ہوا تو وہ بابل اور فارس اور میدیا دونوں حکومتوں کی قائمقام تھی۔جب آپ کے صحابہؓ سے ٹکر انے کی وجہ سے یہ دونوں حکومتیں تباہ ہوئیں تو دانیال کے قول کے مطابق لوہا اور مٹی اور تانبا اور چاندی اور سونا ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور تابستانی کھلیان کی بھوسی کی مانند ہو گئے۔خواب کی ترتیب اور دانیال کی کی ہوئی تعبیر دونوں ہی اِس مضمون کی تائید کرتی ہیں۔اِس میں کیا شبہ ہے کہ بابل کی جگہ فارس اور میدیا نے لی اور فارس اور میدیا کا زور سکندر نے توڑا اور سکندر کی حکومت کو رومی حکومت کھا گئی جس نے اپنے مشرقی مرکز میں بیٹھ کر ایک زبردست یورپین ایشیائی شہنشاہیت قائم کی۔اس شہنشاہیت کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ہی توڑا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ایک لشکر لے کر قیصر کی سرحدوں کی طرف تشریف لے گئے تھے لیکن یہ معلوم کرکے کہ قیصر کی فوجوں کی عرب پر حملہ آور ہونے کی خبر قبل از وقت تھی واپس تشریف لے آئے۔مگر اس کے بعد رومی حکومت