دیباچہ تفسیر القرآن — Page 129
کیا کبھی کوئی شخض قادر کو بھی چھوڑا کرتا ہے؟ چوتھا نام ابدیت کا باپ ہے۔یہ نام بھی حضر ت مسیحؑ پر چسپاں نہیں ہو سکتا۔کیونکہ جیسا کہ اوپر ثابت کیا جا چکا ہے وہ خود اپنے بعد ایک مامور کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔پانچواں نام سلامتی کا شہزادہ ہے۔یہ نام بھی حضر ت مسیحؑ پر چسپاں نہیں ہو سکتا کیونکہ اُنہیں کبھی بادشاہت نصیب ہی نہیں ہوئی کہ اُن کے ذریعہ سے دنیا کو سلامتی ملی ہو وہ تو خود یہود سے دُکھ پاتے رہے، آخر پکڑے گئے اور صلیب پر لٹکائے گئے۔پس اُنہیں سلامتی کا شہزادہ کسی صورت میں بھی نہیں کہا جا سکتا۔پھر لکھا ہے ’’اُس کی سلطنت کے اقبال اور سلامتی کی کچھ انتہاء نہ ہوگی۔‘‘ یہ بات بھی حضرت مسیحؑ میں نہیں پائی جاتی۔نہ اُن کو سلطنت ملی نہ اُس کا اقبال اور سلامتی انہوں نے دیکھی۔اِسی طرح لکھا ہے ’’ وہ دائود کے تخت پر اور اُس کی مملکت میں آج سے لے کر ابد تک بندوبست کرے گا اور عدالت اور صداقت سے اُسے قیام بخشے گا‘‘۔یہ بات بھی حضرت مسیحؑ کو نصیب نہیں ہوئی۔یہ سب کی سب علامتیں رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی پائی جاتی ہیں۔آپ کے کندھے پر سلطنت رکھی گئی اور گو آپ نہیں چاہتے تھے کہ آپ بادشاہ ہوں لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دئیے کہ آپ بادشاہ بننے پر مجبور ہو گئے۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ حضرت مسیحؑ تو باوجود اِس کے کہ اُن کے پاس نہ کوئی حکومت تھی نہ طاقت پھر بھی بادشاہ کہلانے کے شوقین تھے جیسا کہ متی باب ۲۱ میں لکھا ہے:۔’’ مسیح گدھے پر سوار ہو کر یروشلم میں داخل ہو ا تاکہ جونبی نے کہا تھا پورا ہو کہ صیہوں کی بیٹی سے کہو کہ دیکھ تیرا بادشاہ فروتنی سے گدھی پر بلکہ گدھی کے بچہپر سوار ہو کر تجھ پاس آتا ہے‘‘۔۱۵۱؎ اِسی طرح متی باب ۲۷ آیت ۱۱ میں لکھا ہے:۔’’ یسوع حاکم کے روبرو کھڑا تھا اور حاکم نے اُس سے پوچھا کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟ یسوع نے اُس سے کہا ہاں تُو ٹھیک کہتا ہے‘‘۔لوقا باب ۲۳ میں لکھاہے:۔