دیباچہ تفسیر القرآن — Page 83
ویدوں میں تحریف و تبدیل کا ثبوت تیسرا مذہب جو اپنے ماننے والوں کی تعداد کے لحاظ سے خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے، ہندو مذہب ہے۔قرآنی تعلیم کے مطابق ہمارا یقین ہے کہ ہندو مذہب کی بنیاد بھی الٰہی الہام کے ذریعہ پڑی ہے اور چونکہ اِس مذہب والوں کے نزدیک وید ہی شرعی کتاب ہے ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ یہی الہام اُس کے نبیوں پر نازل ہوا تھا لیکن اِس کتاب کی موجودہ حالت یہ ہے کہ جن لوگوں پر یہ کتاب نازل ہوئی تھی اُن کے نام تک معلوم نہیں، وید منتروں کے شروع میں بعض لوگوں کے نام درج ہیں لیکن اُن کے متعلق خود ہندو علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ وہ نہیں جن پر الہام ہوا تھا بلکہ ویدوں کے جمع کرنے والے تھے۔ایسی صورت میں ویدوں کی تاریخی حیثیت کچھ باقی نہیں رہتی۔ویدوں کے علماء کی ویدوں کے متعلق مندرجہ ذیل رائیں ہیں: ۱۔پنڈت ویدک منی صاحب اپنی کتاب ’’ وید سروسو‘‘ کے صفحہ ۹۷ پر لکھتے ہیں:۔’’ حقیقت میں جس قدر بُری حالت اِس اتھرووید کی ہوئی ہے اتنی اور کسی وید کی نہیں ہوئی۔سائن آچاریہ کے بعد بھی کئی سُو کت اِس میں ملا دئیے گئے ہیں۔ملانے کا ڈھنگ بہت اچھا سوچا گیا ہے۔وہ یہ کہ پہلے اُس کے شروع اور آخر میں ’’ اتھ‘‘ (شروع) اور ’’اِتی‘‘ (ختم) لکھ دیا جاتا ہے۔جب دیکھا کسی نے پوچھا تک نہیں تب شروع آخر میں اتھ اِتی لکھنا بند کر دیا جاتا ہے بس صرف اتنے سے وہ ( یعنی اضافہ) سنہتا(ویدک مجموعہ) میں مل جاتا ہے، جیسے رگوید سنہتا میں بالکھلیتہ سُوکت ملائے جارہے ہیں ویسے ہی اتھرووید کے آخر میں آجکل کنتاپ سُوکت ملائے جار ہے ہیں۔اگر پوچھا جائے کہ پانچویں انوواک سے لے کر کنتاپ سُوکتوں سمیت جتنے سُوکت اتھروید میں ملائے جار ہے ہیں وہ کہاں سے آئے تو کوئی جواب نہیں ملتا۔جہالت کا اتنا دور دورہ ہے کہ آخر میں اتھرووید سنہتا سماپتا لکھا ہوا دیکھ کر ہی یہ یقین کر لیا جاتا ہے