دیباچہ تفسیر القرآن — Page 82
کہہ کر اُس کی تذلیل کی۔کیا اِس حوالہ سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ مسیح نے اُس کنعانی عورت کی تذلیل نہیں کی بلکہ جنس نسوانی کی تذلیل کر کے اپنی نسبت یہ ثابت کر دیا کہ وہ مسکین عورتوں کا رہنما نہیں ہے اور یہودی نسل کااِس قدر دلدادہ ہے کہ یہودی کنچنیوں سے اپنے پائوں پر عطر ملوانا پسند کرتا ہے لیکن غیر یہودی عورت کو ہدایت دینا پسند نہیں کرتا۔۸۸؎ اگر عیسائی دنیا اِس حوالہ کو تسلیم کرتی ہو تو بیشک کرے مگر میں کبھی مان نہیں سکتا کہ حواریوں نے اُس کی نسبت ایسا کہا ہو۔میرے نزدیک یہ باتیں بعد کے لوگوں نے اپنے پاس سے بنائی ہیں اور ایسے وقت میں بنائی ہیں جبکہ مسیح کی حقیقی حیثیت لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو چکی تھی۔اصلی مسیح دنیا سے غائب ہو چکا تھا اور ایک خیالی مسیح اُس زمانہ کے نادان اور دین سے ناواقف لوگ بنا رہے تھے۔۳۔یوحنا باب ۲ آیت ۱ تا ۴ میں لکھا ہے:۔’’ اور تیسرے دن قانائے جلیل میں کسی کا بیاہ ہوا اور یسوع کی ماں وہاںتھی اور یسوع اور اُس کے شاگردوں کی بھی اُس بیاہ میں دعوت تھی اور میَ گھٹ گئی۔یسوع کی ماں نے اُس سے کہا کہ اُن کے پاس میَ نہ رہی۔یسوع نے اُس سے کہا ’’ اے عورت مجھے تجھ سے کیا کام‘‘! اِسی طرح متی باب ۱۲ آیت ۴۷۔۴۸ میں لکھا ہے:۔’’ کسی نے اس سے کہا کہ دیکھ تیری ماں او ر تیرے بھائی باہر کھڑے تجھ سے بات کیا چاہتے ہیں۔پر اُس نے جواب میں خبر دینے والے سے کہا کون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی‘‘۔یوحنا اور متی کے یہ دونوں حوالے بتاتے ہیں کہ مسیح اس سب سے قوی رشتہ کی بھی پرواہ نہیں کرتا تھا جس کی عزت و احترام ہر شریف انسان کا کام ہے۔کیا آج مسیحی دنیا میں کوئی شریف انسان ماں سے کہہ سکتا ہے کہ ’’ اے عورت! مجھے تجھ سے کیا کام‘‘ اور کیا آج مسیحی دنیا میں یہ کہہ کر کہ ’’ کون ہے میری ماں اور کون ہیںمیرے بھائی‘‘ شریفوں میں گنا جا سکتا ہے؟ پھر کیا مسیح کی ہی مقدس ذات اِس تمسخر کے لئے باقی رہ گئی تھی کہ انجیل اس کی طرف ایسی بات منسوب