دیباچہ تفسیر القرآن — Page 74
کڑاڑے پر سے دریا میں کودا اور وے قریب دو ہزار کے تھے جو دریا میں ڈوب کر مر گئے اور وے جو سؤروں کوچراتے تھے بھاگے اور شہر اور دیہات میں خبر پہنچائی۔تب وے اِس ماجرے کو دیکھنے نکلے‘‘۔اِن آیات میں اِس قدر وہم کی باتیں جمع کر دی گئی ہیں کہ انسان حیران ہو جاتا ہے۔اوّل یہ کہ ایک شخص اتنا پاگل اور مضبوط تھا کہ کسی قسم کی زنجیریں اُس کو جکڑ نہیں سکتی تھیں۔وہ ہر قسم کی زنجیریں توڑدیتا تھا۔کیاکوئی انسان اِس قسم کا ہو سکتا ہے جو ہر قسم کی زنجیریں توڑ دے؟ ہاں یہ ممکن ہے کہ اُس زمانہ میں لوگوں کو زنجیریں بنانی نہ آتی ہوں اور وہ گھڑیوں کی زنجیروں جیسی کمزور زنجیروں سے لوگوں کو باندھتے ہوں۔پھر لکھا ہے۔وہ دیوانہ اپنے تئیں پتھروںسے کاٹتا تھا۔یہ عجیب بات ہے کہ ایک شخص متواتر سالہا سال سے اپنے آپ کو پتھروں سے کاٹتا تھا اور پھر بھی وہ مرتا نہیں تھا۔پھر لکھاہے۔مسیح نے اُس شخص کو کہا کہ اے ناپاک روح! اِس آدمی میںسے نکل آ۔یہ تو پہاڑی اور جاہل علاقوں کے خیالات ہیں نہ کہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ رسول کے خیالات۔اگر اِس قسم کی بدروحیں لوگوں میں آیا کرتی تھیں تو اب کیوں نہیں آتیں؟ اور کون سے ایسے ذرائع ہیں جن سے ایسی بدروحوں کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔جس چیز کو آج ڈاکٹروں نے ’’ نیورس تھی نیا‘‘ یا ہسٹیریا یاجنون قرار دیا ہے اس کو پرانے زمانے کے نااقف لوگ بدروحیں قرارد یتے تھے۔مگر انجیل یہ بتاتی ہے کہ حضرت مسیح ؑجیسا سنجیدہ اور استباز اور عقلمند انسان بھی ان جاہلوں کی طرح یہ کہتا تھا کہ مجنونوں کے اندر کوئی بدروح داخل ہو جاتی ہے۔نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ۔خدا تعالیٰ کے ایک راستباز پر یہ کتنا بڑا الزام ہے۔اپنی تو ہم پرستی کو دنیا کے ایک عظیم الشان رہنما کی طرف منسوب کر دینا یقینا ایک بہت بڑا ظلم ہے مسیح خود ایسی بات نہیں کر سکتا تھا اور نہ اُس کے حواری ایسی بات کر سکتے تھے۔یقینا یہ بعد کے جہال کی داخل کی ہوئی بات ہے جنہوں نے انجیل کو اُس کے حقیقی معیار سے نیچے گرادیا۔پھر آگے چل کر اس وہم کو اور بھی پکا کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مسیح نے بدروح سے اُس کا نام پوچھا تو اُس نے کہا ’’ میرا نام تمن ہے اِس لئے کہ ہم بہت ہیں‘‘۔گویا ایک روح اتفاقی طور