دیباچہ تفسیر القرآن — Page 73
ہوتا یا الف لیلیٰ کی مانند ہوتا تو اس قسم کی باتیں قابل اعتراض نہ ہوتیں لیکن نیا عہد نامہ تو لوگوں کی مذہبی اور روحانی رہنمائی کیلئے ہے اِس میں اِس قسم کی کہانیوںکا کیا مطلب؟ ہم مسیح ناصری جیسے نیک اور پاک آدمی کی نسبت کسی صورت میں بھی یہ نہیں مان سکتے کہ اُس نے ایسی باتیں کہی ہوں۔وہ خدا تعالیٰ کاایک برگزیدہ رسول تھا اور دنیا کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے آیا تھا۔کیا یہ ممکن ہے کہ ایسا پاکیزہ انسان دنیا کو ایسی باتیں بتاتا جو اُس کو جادۂ اعتدال سے پھرا دیں اوروہم میں مبتلا کردیں۔پس یہ باتیں یقینا بعد میں داخل کی گئی ہیں اور ان کی ذمہ داری مسیح پر نہیں اور نہ اُس کے حواریوں پر ہے بلکہ بعد میں آنے والے ایسے عیسائیوں پر ہے جن کی روحانیت مر چکی تھی اور جو لوگوں کی واہ وا کو صداقت اور راستی پر ترجیح دیتے تھے۔(ب) مرقس باب ۵ آیت ۱ تا ۱۴ میں لکھا ہے۔’’ اور وے دریا کے پار گدرینیو ں کے ملک میں پہنچے اور جونہی وہ کشتی سے اُترے وہیں ایک آدمی جس میں ایک ناپاک روح تھی قبروں سے نکلتے ہوئے اُسے ملا اور وہ قبروں کے درمیان رہا کرتا تھا اور کوئی اُسے زنجیروں سے بھی جکڑ نہ سکتا تھا۔کیونکہ وہ بار بار بیڑیوں اور زنجیروں سے جکڑ اگیا تھا۔لیکن اُس نے زنجیروں کو توڑا اور بیڑیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کئے اور کوئی اُسے قابو میں نہ لا سکا۔وہ ہمیشہ رات دن پہاڑوں اور قبروں کے بیچ چلایا کرتااور اپنے تئیں پتھروں سے کاٹتا تھا۔پر جونہی اُس نے یسوع کو دو رسے دیکھا دَوڑا اور اُسے سجدہ کیا اور بُری آواز سے چلا کے کہا۔اے خدا تعالیٰ کے بیٹے یسوع! مجھے تجھ سے کیا کام ! تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں مجھے نہ ستا۔کیونکہ اُس نے کہا تھا کہ اے ناپاک روح اِس آدمی سے نکل آ۔پھر اُس سے پوچھا تیرا کیا نام ہے؟ تب اُس نے جواب دیا کہ میرا نام تمن ہے اِس لئے کہ ہم بہت ہیں۔پھر اُس نے اُس کی بہت منت کی کہ ہمیں اِس سرزمین سے مت نکال اور وہاں پہاڑوں کے نزدیک ایک سؤروں کا غول چرتا تھا۔سو سب دیووں نے اُس کی منت کر کے کہا کہ ہم کو اِن سؤروں کے درمیان بھیج تاکہ ہم اُن میں بیٹھیں۔یسوع نے انہیں فی الفور اجازت دی اور وے ناپاک روحیں نکل کر سؤروں میں بیٹھ گئیں اور وہ غول