دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 39

نیک وبد کی پہچان دینے کی خاصیت تھی اور یا یہ کہ یہ دو درخت تھے۔ایک میں حیات بخشنے کی طاقت تھی اور دوسرے میں نیک و بدکی پہچان دینے کی طاقت تھی۔ا گر اِس کے معنی یہ لئے جائیں کہ یہ دو درخت نہیں تھے بلکہ ایک ہی درخت تھا تو پیدائش باب ۲ آیت۱۷ کا حوالہ جو اوپر لکھا جا چکا ہے کہ: ’’ جس دن تو اس سے کھائے گا مر جائے گا‘‘۔غلط ہو جاتا ہے۔کیونکہ آیت ۹ تو اُسے حیات کا درخت قرار دیتی ہے موت کا نہیں۔اور اگر یہ دو الگ الگ درخت تھے تو پھر یہ دونوں آیتیں متضاد ہیں۔کیونکہ نیک وبد کی پہچان کے درخت سے کھانے سے موت کا آنا لازمی نہ تھا اس لیے کہ اگر آدمؑ حیات کے درخت سے کھا لیتے جیسا کہ بائبل سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوںنے کھایا تو نیک و بد کی پہچان کے درخت سے کھانے کے باوجود اُن پر موت کیونکر آئی؟ اگر ایک درخت کے کھانے سے موت لازماً آنی تھی تو دوسرے درخت کا پھل کھانے سے حیاتِ جاودانی مل جانی تھی۔ایسے شخص کا معاملہ تو کوئی عقل حل ہی نہیں کر سکتی کہ ایک درخت اسے ہمیشہ کے لئے زندہ رکھنا چاہتا ہے اور دوسرا درخت اُسے مار دینا چاہتا ہے۔بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدمؑ اور ان کی بیوی نے حیات کے درخت کا پھل کھایا ہے کیونکہ پیدائش باب ۳ آیت ۲،۳ میں لکھا ہے:۔’’ عورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل ہم توکھاتے ہیں مگر اُس درخت کے پھل کو جو باغ کے بیچوں بیچ ہے خدا نے کہا کہ تم اُسے نہ کھانا اور نہ اُسے چھونا ایسا نہ ہو کہ مر جائو‘‘۔اِن آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوائے نیک وبد پہچان کے درخت کے باقی سب درختوں کا پھل آدمؑ اور اس کی بیوی کھاتے تھے۔اگر بائبل کی یہ بات درست ہے تو آدمؑ اور اس کی بیوی حیات کے درخت کا پھل بھی کھاتے تھے اور جب وہ حیات کے درخت کا پھل بھی کھاتے تھے تو اُن پر موت کس طرح آئی۔لیکن عجیب بات ہے کہ باب ۳ کی آیت ۲۲ میں لکھا ہے کہ خدا نے فرشتوں سے کہا:۔