دیباچہ تفسیر القرآن — Page 475
پیدائش کے بعد صورت دینے سے جسمانی صورت تو مراد نہیں ہو سکتی، اس سے مراد ذہنی ارتقاء ہی ہو سکتا ہے پس اس آیت کا مفہوم یہی ہے کہ پہلے انسان پیدا کیا گیا پھر آہستہ آہستہ ترقی دیتے ہوئے اس کے قویٰ کو ایک نئی شکل دے دی گئی اور وہ دوسرے حیوانوںسے ممتاز نظر آنے لگا یعنی اس کی سمجھ اور عقل مکمل ہو گئی تب آدم پیدا کیا گیا اور خد اتعالیٰ نے اس پر الہام نازل کیا۔انسانی پیدائش کا مقصد انسانی پیدائش کے متعلق قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اس لئے پیدا کیا گیا ہے تا وہ خدا تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرے اور اس کا نمونہ بنے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۵۸۴؎ میں نے جن واِنس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے تا وہ خدا تعالیٰ کی صفات کا نقش اپنے دل پر پیدا کریں ( جن سے اس جگہ انسان ہی کی بعض اقسام مراد ہیں نہ کہ غیر مرئی جن) اسی طرح قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۵۸۵؎ اے انسانو! اللہ ہی ہے جس نے تم کو اس دنیا میں اپنا نمائندہ بنا کر کھڑا کیا ہے۔پس اگر کوئی شخص تم میں سے اِس مقام کا انکار کرتا ہے تواس کے انکار کا نتیجہ اُسی کو پہنچے گا یعنی اس عزت کے مقام کو چھوڑ کر انسان خود اپنا ہی نقصان کرے گا۔خدا تعالیٰ کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی صفاتِ حسنہ کو دنیا میں ظاہر کرنے کے لئے پید اہوا ہے اور وہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کا قائمقام ہے۔پس انسان نقطہ مرکزی ہے تمام عالمِ مادی کے لئے۔اور چونکہ انبیاء انسانوں کی اصلاح کے لئے اور اُن کو اپنا فرض یاد دلانے کے لئے اور اسی میں کامیابی کیلئے صحیح طریق کار بتانے کیلئے آتے ہیں اس لئے وہ نقطہ مرکزی ہیں تمام انسانوں کیلئے یا یوں کہو کہ انسان ایک سورج کی طرح ہے جس کے گرد تمام مادی دنیا گھومتی ہے اور پھر اپنے اپنے دائرہ میں انبیاء ایک سورج ہیں جن کے گرد اُن کے حلقہ کے انسان گھومتے ہیں۔قانونِ قدرت اور قانونِ شریعت قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اس کے فرائض کی طرف توجہ دلانے اور ترقی کے راستہ پر اسے گامزن کر نے کے لئے خدا تعالیٰ نے دو قسم کے قانون جاری کئے