دیباچہ تفسیر القرآن — Page 474
وہ لوگ جن کی تمدنی روح ابھی کامل نہ تھی انہوں نے ان قیود کا انکار کیا اور آدم کا مقابلہ کیا۔اِ س پر اللہ تعالیٰ نے اُنہیں سزا دی اور آدم کو غالب کر دیا اور آئندہ کیلئے حکم دیا کہ جب کوئی دوسرا نبی آئے تو نبوت کا سلسلہ اسی شکل میں ظاہر ہوتا رہے گا۔یعنی کچھ لوگ مؤمن ہوں گے اور کچھ کافر۔مؤمن انسانوں کے قائمقام ہوں گے اور کفار اُن جنوں کے قائمقام ہوں گے کیونکہ ہر نبی ارتقائے دماغی یا روحانی کے لئے آتا ہے اور جو لوگ اِس منزلِ ارتقاء کے مخالف ہوتے ہیں اور اس زمانہ کی قیود کی پابندی نہیں کر سکتے جو نبی کے ذریعہ سے سوسائٹی کی اصلاح کیلئے تجویز کی جاتی ہیں وہ اس کے منکر ہو جاتے ہیں۔غرض قرآنی تعلیم کی رو سے انسان کی پیدائش ارتقاء سے ہوئی ہے بلکہ اس کے دماغ کی ترقی بھی درجہ بدرجہ ارتقاء سے ہوئی ہے۔آدم پہلا بشر نہ تھا بلکہ وہ بشروں میں سے پہلا مکمل بشر تھا۔جس کا دماغ الٰہی کلام کا حامل ہونے کے قابل ہوا اس لئے قرآن کریم نے آدم کے ذکر میں کہیں یہ نہیں کہا کہ آئو ہم پہلا انسان پید اکریں بلکہ قرآن کریم میں جہاں آدم کا ذکر آتا ہے یوں آتا ہے کہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ زمین میں اپنا خلیفہ مقرر کروں۔جس سے ظاہر ہے کہ بشر تو پہلے موجود تھے مگر وہ الہامِ الٰہی سے ابھی تک مشرف نہ ہوئے تھے کیونکہ ان کے دماغوں نے پوری نشوونما نہ کی تھی۔جب آہستہ آہستہ بشری دماغ نے نشوونما حاصل کی اور وہ ایک نظام اور تمدن کو قبول کرنے کے قابل ہو گیا تو اُس وقت کے سب سے مکمل دماغ والے بشر آدم پر اللہ تعالیٰ نے الہام نازل کیا اور وہ پہلا نبی ہوا۔پس وہ پہلا انسان نہ تھا پہلا نبی تھا اور اسے اس زمانہ کی دماغی ترقی کے مطابق ایک بسیط اور سادہ تعلیم دی گئی جو صرف چند موٹے موٹے قوانین تمدن پر مشتمل تھی اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق بھی ایک سادہ سی تفصیل تھی۔اس امر کے متعلق قرآن کریم کی یہ آیت بھی شاہد ہے۔۵۸۳؎ یعنی ہم نے تم انسانوں کو پید اکیا پھر ہم نے تم کو ایک اچھی صورت بخشی پھرہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کی اطاعت کرو۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ آدم سے پہلے کئی انسان پید ا ہو چکے تھے اور سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک لمبی ارتقائی منزل میں سے بھی گزر چکے تھے کیونکہ