دیباچہ تفسیر القرآن — Page 471
پیدائش سے پہلے یعنی مادہ کی موجودہ شکل سے پہلے دنیا میں ایک پانی کی خاصیت کا مادہ پیدا کیا گیا تھا یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لو کہ ہائیڈروجن کا بسیط ترین ذرہ پیدا کیا گیا تھا پھر اس کو ترقی دیتے دیتے یہ عالَم پیدا ہوا۔زمین اور آسمان کی موجودہ شکل کے اختیار کرنے سے پہلے کی حالت کے متعلق بھی قرآن شریف روشنی ڈالتا ہے اور فرماتا ہے۵۷۸؎ کیا اسلام کے منکر اس بات کو سمجھتے نہیں کہ آسمان اور زمین شروع میں ایک گولہ کی طرح تھے پھر ہم نے اُن کو پھاڑ کر ایک نظامِ شمسی قائم کردیا اور شروع سے ہی ہمارا یہ طریق چلا آرہا ہے کہ ہم پانی سے ہر چیز زندہ کیا کرتے ہیں کیا وہ ایمان نہیں لائیں گے ؟یعنی مادی عالَم نے جس طرح ترقی کی ہے اسی طرح روحانی عالَم بھی ترقی کرے گا۔جس طرح دنیا میں پھیلا ہوا ایک گول سا مادہ تھا جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے مقررہ قانون کے ماتحت پھاڑا اور دُور دُور اس کے ٹکڑے جا کر گرے اور نظام شمسی بن گیا اسی طرح روحانی دنیا میں بھی ایک تغیر عظیم پیدا ہوتا ہے دنیا کی روحانی حالت خراب ہو جاتی ہے اور فضا گھٹی گھٹی سی معلوم ہوتی ہے تب اللہ تعالیٰ اسی تاریکی سے ایک نور ظاہر کرتا ہے اور جس طرح زمین کی تاریکی سے پودا پھوٹتا ہے اسی طرح اس تاریکی میں جنبش پیدا ہو کر ایک زلزلہ سا آتا ہے اور اس مردہ مادہ میں ایک دائمی حرکت کرنے والا روحانی نظام شمسی پیدا ہو جاتا ہے جوا پنے مرکزی نقطہ سے پھیل کر ملک یا دنیا کو اپنی وسعت کے مطابق گھیر لیتا ہے اور جس طرح مادی عالَم کی پیدائش کی ابتداء پانی سے ہوئی ہے اسی طرح یہ تغیر جو دنیا میں ہوتا ہے یہ بھی آسمانی پانی یعنی الہام سے ہوتا ہے۔بغیر آسمانی پانی کے ایسا تغیر نہیں ہوتا۔الغرض قرآنی تعلیم کے رو سے دنیا مختلف تغیرات میں سے گزرتی چلی گئی اور آخر وہ وقت آیا جب زمین کے پردہ پر انسان پیدا کیا جا سکتا تھا اور وہی انسان کم سے کم اس نظامِ شمسی کا مقصود تھا۔جب وہ وقت آگیا تو اللہ تعالیٰ نے اس مادی عالَم میں انسان کو پیدا کیا تاکہ وہ خدا تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرے اور اللہ تعالیٰ کے حسین چہرہ کے لئے ایک آئینہ کی طرح ثابت ہو اور اس طرح ایک روحانی بادشاہت کی بنیاد رکھی جائے۔بے شک خدا کی مخلوق لاکھوں اور کروڑوں قسم کی ہے قرآن کریم فرماتا ہے