دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 470

مسلمان اس بات کو دیکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ باوجود خالق اور مالک ہونے کے بندے کے قصوروں کو معاف کرتا اور اُس کی غلطیوں سے درگزر کرتا اور اُس کی ترقی کے سامان پید اکرتا چلا جاتا ہے اور اُس کی سزا دکھ دینے اور ذلیل کرنے کے لئے نہیں ہوتی بلکہ وہ بندے کی اصلاح اور ترقی کے لئے ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کا خدا اُس کی توبہ کے قبول کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے اور وہ اس کے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے اور توبہ اور ندامت کے بعد گناہوں کو جڑ سے اُکھیڑ دیتا ہے۔جب وہ دیکھتا ہے کہ باوجود عظیم الشان اور نہایت ہی بالا ہستی ہونے کے وہ اپنے بندوں کی دعائوں کو سنتا ہے اور انسان کے دل میں اس سے ملنے کا جتنا شوق ہے اس سے کہیں بڑھ کر خد اتعالیٰ کو اُس سے ملنے کا شوق ہے تو انسان کا دل محبت اور پیار سے بھر جاتا ہے اور وہ بے اختیار ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے اُس سے بھی زیادہ شوق سے جس شوق سے ایک بچہ اپنی ماں کی طرف جھکتا ہے اور خد اتعالیٰ بھی ایسے انسان کی طرف محبت سے جھکتا ہے اس ماں کی محبت کی نسبت سے بھی زیادہ شدید محبت سے جو اپنے روتے ہوئے بچے کی طرف بھاگتی ہے۔پیدائش عالم اور انسان کا نقطۂ مرکزی ہونا قرآن کریم بتاتا ہے کہ اس نقطۂ مرکزی، یعنی خد اتعالیٰ نے چاہا کہ ایک نیا عالَم پید اکرے جو اس کے نور اور اس کے جلال کا مظہر ہو۔تب اس نے یہ مادی عالَم پیدا کیا۔اس عالَم کی پیدائش کے متعلق قرآن کریم نے جو روشنی ڈالی ہے وہ مختصراً یہ ہے فرماتا ہے ۵۷۷؎ خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمینوںکو چھ وقتوں میں پیدا کیا ہے (یعنی چھ اہم تبدیلیوں والے زمانوں میں) اور اس سے پہلے خدا تعالیٰ کا حکم پانی پر چلتا تھا۔اس پانی کی حالت سے زمین و آسمان کے پیدا کرنے کی غرض یہ تھی کہ وہ ایک انسان پیدا کرے جو نیکی اور بدی پر اختیار رکھتا ہو اور ہر قسم کے امتحانوں میں سے گزرتے ہوئے یہ ثابت کر ے کہ ان میں سے کون دوسروں سے فائق ہو گیا اور اعلیٰ درجہ کی نیکی کا نمونہ بن گیا ہے۔اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ آسمان اور زمین کی