دیباچہ تفسیر القرآن — Page 469
میں ظاہر ہونے لگتی ہے غرض جو چیز موجود ہے وہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت سے فائدہ اُٹھا رہی ہے اور جو چیز موجود نہیں وہ عالم ہے ہی نہیں۔اس کے متعلق سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔صفاتِ الٰہیہ دو قانونوں کے ماتحت کام کرتی ہیں اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات دو قانونوں کے ماتحت چلتی ہیں۔وہ صفات جو بنی نوع انسان سے تعلق رکھتی ہیں ان کے باہمی تعاون کیلئے خدا تعالیٰ نے دو قانون قرآن شریف میں پیش کئے ہیں ایک قانون کا ذکر ۵۷۵؎ کی آیت میں آتا ہے یعنی میری رحمت ہر چیز پر غالب ہے۔دوسری صفت قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے۵۷۶؎ تمہیں کیا ہو گیا کہ تم خدا تعالیٰ کے متعلق یہ خیال نہیں کرتے کہ وہ اپنے کاموں میں حکمت کو مدنظر رکھتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے جو قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں ایک نام حکیم بھی ہے جو اس مفہوم کے ساتھ ملتے جلتے مفہوم پر دلالت کرتا ہے ان دو صفات سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہر صفت جو ظاہر ہو گی وہ کسی غرض اور غایت کو پورا کرنے کے لئے ہو گی بِلاوجہ نہیں ہو گی۔دوسرے یہ کہ جہاں بھی سزا اور رحم کے مطالبے ٹکرا جائیں گے رحم کے پہلو کو ہمیشہ ترجیح دی جائے گی اور سزا کے پہلو کو ہمیشہ اس کے ماتحت رکھا جائے گا۔درحقیقت قرآن کریم کی یہی وہ خوبی ہے جو ایک مؤمن کے دل کو اللہ تعالیٰ کی محبت سے بھر دیتی ہے اور یہی وہ اصول ہے جو بندے اور خدا میں محبت پیدا کرنے کا ذریعہ ہو جاتا ہے۔ایک مسلمان کو خدا تعالیٰ کی محبت پید اکرنے کیلئے کسی عقل میں نہ آنے والے کفارہ کے مسئلہ کی ضرورت نہیں نہ اس کو کسی شخص کے صلیب پر لٹک کر مر جانے کے مسئلہ پر ایمان لانے کی حاجت ہے۔جب وہ قرآن کریم کے بتائے ہوئے اِس گر کو دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر کام حکمت کے ماتحت ہوتا ہے۔ہر کام کسی غرض و غایت کے لئے ہوتا ہے اور ہر کام کسی جائز اور معقول سبب کے لئے ہوتا ہے اور یہ کہ باوجود اس کے جب ایک کمزور انسان کمزوری دکھا جاتا ہے اور اس کے دل میں ندامت اور شرم پید اہوتی ہے تو خدا تعالیٰ کی محبت اور خدا تعالیٰ کا غفران اس کو ڈھانک لیتا ہے تو اس کا دل بیتاب ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف جھک جاتا ہے اور جب ایک