دیباچہ تفسیر القرآن — Page 452
بیان ہوئے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ ان تمام باتوں کو دیباچہ میں بیان نہیں کیا جا سکتا صرف اِن کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔چنانچہ اُوپر میں نے ان اُمور کی طر ف اشارہ کر دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم اس بات کا مدعی ہے کہ تمام وہ باتیں جن کی دین اور اخلاقی ترقی اور جسم اور روح کی پاکیزگی کے لئے ضرورت ہے وہ قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں اور اس دعویٰ کو ہم نے ہر زمانہ میں سچا پایا ہے۔اس بیسویں صدی میں بھی کہ اس زمانہ کے لوگ اپنے آپ کو علوم میں سب سے بڑھ کر سمجھتے ہیں ہم قرآن کریم کو انسان کی تمام سچی ضرورتوں کو پورا کرنے والا پاتے ہیں اور کوئی ایسی ضرورت جو دین یا اخلاق یا روحانی یا دماغی صفائی اور پاکیزگی کے متعلق ہو ہمیں ایسی نہیں ملتی جس کے متعلق قرآن کریم میں مکمل تعلیم نہ دی گئی ہو، لیکن ایک دیباچہ ان کی تفصیل کا متحمل نہیں ہو سکتا۔پس مختصر اشاروں پر ہی میں اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔ہاں تشریحی نوٹوں میں مختلف آیات کی تشریح میں ان اُمور پر مزید روشنی ڈالی جائے گی۔گو جس قسم کے مختصر نوٹ اِس قرآن کریم میں دئیے گئے ہیں اُن کو مدنظر رکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ پورا علم قرآن کے مطالب کا ان نوٹوں سے بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔اس کے لئے میری اُردو کی تفسیر ایک حد تک ممد ہو سکتی ہے وہ ان انگریزی تشریحی نوٹوں سے بہت زیادہ مفصل ہے۔روحانی دنیا کا نقشہ قرآن کریم کی تعلیم کے اُصول کا ایک مختصر خلاصہ بیان کرنے کے بعد میں روحانی دنیا کا وہ نقشہ پیش کرتا ہوں جو قرآن کریم نے کھینچا ہے مختصراً پیش کرتا ہوں۔جس طرح یہ مادی دنیا ہمیں ایک خاص نظام کے ماتحت چلتی ہوئی نظر آتی ہے ہم جس زمین پررہتے ہیں وہ ایک نظامِ شمسی کے تابع ہے، ایک سورج اپنے ماتحت کچھ ستارے رکھتا ہے۔اور وہ ستارے اس سورج کے گرد گھومتے ہیں اور سورج آگے ایک غیرمعلوم منزل کی طرف جاتا ہے جس کی نسبت آجکل کے حساب دان کہتے ہیں کہ وہ ایک بڑا مرکز ہے جو تمام نظام ہائے شمسی کو ایک بڑے نظام کے ماتحت جکڑ رہا ہے ان کی تفصیلات ٹھیک ہوں یا نہ ہوں بہر حال یہ تو ظاہر ہے کہ یہ ساری دنیا کسی ایک نظام کے ماتحت ہے ورنہ یہ اس طرح قائم نہیں رہ سکتی تھی۔پھر اس ظاہری نظام کے ماتحت کچھ قوانین قدرت ہیں جن کے مطابق مادہ دنیا میں کام کر رہا ہے اور مختلف قسم کے تغیرات میں سے گزرتے ہوئے مادی دنیا کو