دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 451

تھے اور اس کی پیدائش یا اُس کی روح کے متعلق کسی قسم کا خیال ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے تھے۔اسلام وہ پہلا اور آخری مذہب ہے جس نے اِس مسئلہ کو صحیح طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ روح درحقیقت انسانی جسم کے ارتقاء کا ایک انتہائی نقطہ ہے اور وہ کہیں باہر سے نہیں آئی بلکہ انسانی جسم کے تغیرات کے نتیجہ میں ہی وہ پیدا ہوئی ہے ہاں اس نے ایک علیحدہ وجود اختیار کر لیا ہے۔انسانی جسم کے محض عمل کا نام روح نہیں بلکہ روح انسانی مادہ ہی سے نکلی ہوئی ایک چیز ہے جس نے ایک مستقل وجود اختیار کر لیا ہے۔جس طرح شراب اور سرکہ دانوں اور پھلوں ہی میں سے نکلتے ہیں لیکن وہ ایک علیحدہ وجود اختیار کر لیتے ہیں بظاہر تو یہ ایک معمولی بات معلوم ہوتی ہے لیکن اگر ہم غور کرکے دیکھیںتوا س حقیقت کے اظہار سے اسلام نے مذہب کا نقطۂ نگاہ بالکل بدل دیا ہے روحوں کو انادی ماننے یا خدا تعالیٰ کے کسی قدیم زمانہ میں ان کو پید ا کرکے اِس دنیا میں بھیجتے رہنے کے عقیدہ نے مختلف مذاہب کے پیروئوں میں یہ احساس پیدا کر دیا تھا کہ جسم کی صفائی اور جسم کے ارتقاء کا روح کے ساتھ کوئی تعلق نہیں لیکن اسلام نے اس حقیقت کو بیان کرکے اس طرف توجہ دلا دی کہ جسم کی صفائی اور جسم کے ارتقاء کا تعلق روح کے ساتھ بہت گہر اہے۔اس میں کوئی شبہ نہیںکہ جسم انسانی کے نشوونما سے کوئی نہ کوئی روح تو ضرور پیدا ہو جائے گی لیکن اگر جسمِ ا نسانی کا خیال اچھی طرح رکھا جائے گا اگر حفظانِ صحت کے اُصول کو مدنظر رکھا جائے گا تو یقینا ایک زیادہ فعال اور سمجھدار انسان پید اہو گا۔پس اس حقیقت کو بیان کر کے اسلام نے انسان کی روحانی اور دماغی ترقی کے لئے ایک نیا رستہ کھول دیا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ روح تو اپنی ذات میں کوئی طاقت نہیں رکھتی اس لئے جسم کے تغیرات کا روح پر کیا اثر پڑ سکتا ہے یہ درحقیقت ایک غلط خیال ہے روح کا طاقت نہ رکھنا ایک بے معنی بات ہے اگر روح کوئی طاقت نہیں رکھتی تو وہ ایک بے حقیقت چیز ہے اصل بات یہ ہے کہ روح کے اندر طاقتیں تو ہیں لیکن روح بغیر جسم کے اپنی طاقتوں کو استعمال نہیں کر سکتی اور بہت سی مادی چیزیں دنیا میں ایسی ہیں جو بغیر کسی کے واسطہ کے اپنے آپ کو ظاہر نہیں کر سکتیں جیسے بجلی ہے کہ وہ اپنا ظہور دوسری چیزوں کے ذریعہ سے کرتی ہے پس یہ درست نہیں کہ روح کے اندر طاقتیں نہیں ہوتیں۔روح کے اندر طاقتیں اور صفات ضرور ہوتی ہیں مگر اُن کا ظہور کسی نہ کسی جسم کے ذریعے سے ظاہر ہوتا ہے۔یہ تمام مضامین اور ایسے ہی بہت سے مضامین قرآن کریم میں