دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 440

ماحول اس جیسا اچھا نہیں اُس کے رستہ کی روکوں کو بھی نظرا نداز نہیں کیا جائے گا اور فیصلہ کے وقت اُنہیں بھی مدنظر رکھا جائے گا۔قرآن ایمان پر بھی روشنی ڈالتا ہے اور بتاتا ہے کہ ایمان کیا چیز ہے، ایمان کی علامتیں کیا ہیں، ایمان کے حصول کے ذرائع کیا ہیں وہ قانونِ شریعت اور اُس کی ضرورت کے متعلق بھی روشنی ڈالتا ہے اور بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قانون بھی بغیر حکمت کے نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ اپنے بندے کو کوئی حکم اس لئے نہیں دیتا کہ وہ اسے سزا دے اور اس پر بوجھ ڈالے بلکہ وہ ہر حکم اس لئے دیتا ہے کہ وہ انسان کی ترقی کی منزل میں ممد اور معاون اور اس کی تمدنی حالت کو سدھارنے والا ہوتا ہے قرآن جبری حکموں کا قائل نہیں وہ اس حق کو تسلیم کرتا ہے کہ خدا بھی جس شخص کو سزا دے اس شخص کو اپنی ذات سے الزام کو دور کرنے کا پورا موقع ملنا چاہئے اور اس کے اُوپر پوری طرح حجت تمام ہونی چاہئے خواہ کوئی کتنا ہی بڑا مجرم ہو مگر اُس پر حجت تمام ہوئے بغیر قرآن اُس کی سزا کا قائل نہیں۔عبادت کی چار اُصولی قسمیں قرآن عبادتِ الٰہی کے متعلق بھی تفصیلی روشنی ڈالتا ہے وہ عبادت کو چار اُصولی حصوں میں تقسیم کرتا ہے (۱) وہ عبادت جس کی غرض خد اتعالیٰ کے ساتھ محبت اور اس کے ساتھ تعلق بڑھانا ہے۔(۲) وہ عبادت جو انسان کے جسم کی اصلاح کے لئے قربانیاں کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے ہوتی ہے۔(۳) وہ عبادت جو انسانوں کے اندر مرکز یت پیدا کرنے کے لئے اور اتحاد و یگانگت کا احساس پیدا کرنے کے لئے مقرر کی جاتی ہے۔(۴) وہ عبادت جو بنی نوع انسان کی اقتصادی حالتوں میں یکسوئی اور یکرنگی پیدا کرنے کے لئے مقرر کی جاتی ہے۔یہ چار اصول عبادت کے اِسلام مقرر کرتاہے اور اِن چار اُصول کے مطابق اس نے مختلف قسم کی عبادتیں مقرر کی ہیں۔اِن اُصول کو تجویز کر کے اِسلام نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ عبادت صرف اِسی بات کا نام نہیں کہ انسان خدا تعالیٰ کی طرف دھیان دے بلکہ بنی نوع انسان کی طرف توجہ کرنے سے بھی خدا تعالیٰ کی عبادت کا فرض ادا ہوتاہے۔اسی طرح اسلام نے یہ نکتہ بھی پیش کیا ہے کہ عبادات صرف انفرادی نہیں بلکہ وہ