دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 439

ختیار کرنے والے کے بھی اختیار میں نہیں۔موت خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے اگر ایک شخص نیکی کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے مر جاتا ہے تو یقینا وہ خد اکے فضل کا مستحق ہے سزا کا مستوجب نہیں۔کوئی قوم اپنے سپاہیوں کو اِس بات پر ملامت نہیں کیا کرتی کہ وہ فتح پانے سے پہلے کیوں مارے گئے بلکہ فتح کے لئے بھی سچی کوشش کرنے والا سپاہی عزت پاتا ہے اِسی طرح وہ شخص جو شیطان کو زیر کرنے کے لئے پورا زور لگا رہا ہے کبھی شیطان اُس پر غالب آجاتا ہے اور کبھی وہ شیطان پر غالب آجاتا ہے مگر وہ دل نہیں ہارتا، وہ ہمت نہیں ہارتا، وہ ہتھیار نہیں ڈالتا، وہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت کے قیام کے لئے شیطان سے لڑتا چلا جاتا ہے ایسا انسان قرآن کے نزدیک یقینا نجات کا مستحق ہے۔اُس کی کمزوری اُس کے لئے ایک زیور ہے کیونکہ وہ باوجود کمزور ہونے کے خدا کے سپاہیوں میں شامل ہونے سے ڈرا نہیں اور اپنی قربانی پیش کرنے سے ہچکچایا نہیں۔قرآن کریم روحانی ارتقاء کی منازل بیان کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ روحانی مدارج کیا ہیں، کتنے ہیں اور مختلف اخلاق کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ روحانی مدراج کی تفصیل بیان کرتا ہے۔وہ بتاتا ہے کہ عفت کتنی اقسام کی ہے، وہ بتاتا ہے کہ سخاوت کتنی اقسام کی ہے، وہ سچائی کی اقسام بیان کرتا ہے، وہ رحم اور حسن سلوک کے مدراج بیان کرتا ہے تاکہ ہر طاقت و قوت کا انسان اپنے لئے ایک قریب کی منزل مقرر کر سکے اور اس طرح جہاں اُس کی حوصلہ افزائی ہو وہاں چھوٹی ترقی پر خوش ہونے کی غلطی میں وہ مبتلا نہ ہو جائے۔وہ ہر شخص کے قریب کی منزل اُسے بتاتا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ اس سے اُوپر ایک اور منزل بھی ہے۔جب تم پہلی منزل طے کر لو تو تمہیں اُوپر کی منزل کی طرف اپنا قدم بڑھانا چاہئے اس طرح وہ قدم بقدم اور درجہ بدرجہ انسان کو اُوپر لئے چلا جاتا ہے۔قرآن انسان کے دماغی ارتقاء پر بھی روشنی ڈالتا ہے وہ بتاتا ہے کہ انسان کا دماغی نشوونما کس طرح ہوتا ہے اور کس طرح خدا تعالیٰ کے نزدیک اُس کے دماغی نشوونما کا بھی اس کے متعلق فیصلہ کرنے کے وقت لحاظ رکھا جاتا ہے وہ شخص جو ایک اچھے ماحول میں پلا ہے اور جس کے لئے نیکی کا رستہ آسان ہو گیا ہے وہ محض اپنے اعمال کی وجہ سے دوسرے پر فضیلت نہیں پائے گا، بلکہ دوسرا شخص جس کا دماغی نشوونما اس پہلے شخص کے برابر نہیں اور جس کا