دیباچہ تفسیر القرآن — Page 438
اور نیکی سے منہ موڑنا ہی انسان کو سزا کا مستوجببناتا ہے۔قرآن کریم اِس سوال پر بھی روشنی ڈالتا ہے کہ دعا کیا ہے، دعا کرنے کے طریق کیا ہیں، دعائیں کن حالات میں قبول ہوتی ہیں اور کن حالات میں قبول نہیں ہوتیں۔دعائوں کی قبولیت کا دائرہ کیا ہے۔وہ نیکی اور بدی پر بھی بحث کرتا ہے کہ نیکی کیا چیز ہے اور بدی کیا چیز ہے، ان کی حدیں کہاں ملتی ہیں ،حقیقی نیکیاں کیا ہیں اور حقیقی بدیاں کیا ہیں، نسبتی نیکیاں کیا ہیں اور نسبتی بدیاں کیا ہیں، وہ نیکی اور اخلاق فاضلہ پیدا کرنے کے طریق بتاتا ہے، وہ بدیوں سے بچنے کے طریق بتاتا ہے، وہ نیکیوں اور بدیوں کے منبع پرروشنی ڈالتا ہے اور بدیوں کے منبع کو بند کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔وہ توبہ پر بھی روشنی ڈالتا ہے، توبہ کی حقیقت بتاتاہے، توبہ کے فوائد بتاتا ہے، توبہ کے مواقع بتاتا ہے اور توبہ کی شرائط بیان کرتا ہے۔اسی طرح وہ جزاء سزا کے متعلق بھی پوری روشنی ڈالتا ہے جزاء کن حالات میں دی جاتی ہے، سزا کن حالات میں دی جاتی ہے جرم اور سزا کی نسبت کیا ہونی چاہئے۔پھر وہ اسی سلسلہ میں نجات کی تفاصیل بیان کرتا ہے۔نجات کیا ہے اور کس طرح حاصل ہوتی ہے اور کیا ہر ایک بدی انسان کو تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ نجات تین قسم کی ہے، کامل، ناقص اورملتوی۔کامل نجات انسان اسی دنیا سے حاصل کرتا ہے۔ناقص نجات والا انسان مرنے کے بعد تدریجی طور پر اپنی نجات کے سامانوں کو مکمل کرتا ہے اور ملتوی نجات وہ ہے جو سزائے جہنم لے لینے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔اس آخری قسم کی نجات کے بارہ میں اسلام اور عیسائیت میں ایک رنگ میں تشابہہ بھی ہے اور ایک رنگ میں تخالف بھی ہے۔عیسائیت صرف کمزور عیسائیوں کو جو اپنے عقیدہ میں پکے ہوں اس دوزخ کا سزاوار قرار دیتی ہے کہ جس میں سے نکل کر انسان جنت میں پہنچ جاتا ہے لیکن اسلام اِس بات پر زور دیتا ہے کہ ہر انسان نجات ہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور خواہ کوئی کیسا ہی کا فر ہو مختلف قسم کے علاجوں کے بعد جن میں سے ایک علاج جہنم بھی ہے وہ آخر جنت کو پالے گا۔قرآن نجات کے بارہ میں وزنِ اعمال پر زور دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ نیک اعمال کا بڑھ جانا انسان کی نجات کے لئے اس کی سچی کوشش پر دلالت کرتا ہے اور جو شخص سچی کوشش کرتا ہوا مر جاتا ہے وہ اس سپاہی کی طرح ہے جو فتح سے پہلے مارا جاتا ہے۔موت جس طرح سپاہی کے اختیار میں نہیں اسی طرح نیکی کی راہ ا