دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 430

بھی معنی کئے ہیں کہ یاجوج وماجوج کے زمانہ میں مردوں کو زندہ کرنے کی کوشش کی جائے گی (لیکن اِس زمانہ میں بھی باوجود سائنس کی پوری ترقی کے) اِس بات میں کامیابی حاصل نہیں ہو گی۔بہرحال قرآن کریم اِس بات کا بھی منکر ہے کہ مردے دوبارہ اِسی دنیا میں زندہ ہو کر آئیں۔اِسی طرح وہ اِس بات کا بھی منکر ہے کہ کوئی ہستی خدا تعالیٰ کے سوا حقیقی مخلوق پیدا کر سکے۔چنانچہ اِس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ۵۵۶؎ یعنی وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا لوگ امداد کے لئے پکارتے ہیں۔وہ ذرا سی چیز بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں، وہ مردے ہیں زندہ نہیں اور اُن کو تو یہ بھی علم نہیں تھا کہ وہ کب اُٹھا کر خد اتعالیٰ کے سامنے پیش کئے جائیںگے۔اِسی طرح قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی احمقانہ بات خد اتعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی کیونکہ خد اتعالیٰ حکیم ہے یعنی اُس کے سارے کام حکمت کے ساتھ ہوتے ہیں چنانچہ قرآن کریم میں علاوہ اِس کے کہ خد اتعالیٰ کا نام حکیم رکھا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  ۵۵۷؎ اے اِسلام کے دشمنو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اپنے متعلق تو یہ ثابت کرنا چاہتے ہو کہ تمہارے کام حکمت کے مطابق ہیں مگر خد اتعالیٰ کے متعلق یہ بات تسلیم نہیں کرتے اور اِس کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہو جو حکمت کے خلاف ہوتی ہیں۔یہ تین باتیں یا اِسی قسم کی اور باتیں اگر خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کی جائیں تو خواہ اُن کا نام معجزہ رکھا جائے، خواہ اِن کا نام کرامت رکھا جائے خواہ اِن کا نام جادو رکھا جائے قرآن کریم اِس کا مخالف ہے اور اِس قسم کے معجزات نہ پہلے انبیاء کی طرف منسوب کرنا جائز سمجھتا ہے اور نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسے معجزات منسوب کرتا ہے۔اِس سے زیادہ احمقانہ بات کیا ہو گی کہ خد اتعالیٰ ایک قانون دنیا میں جاری کرے اور پھر خود ہی اُس قانون کو توڑ بھی دے کوئی معقول انسان بھی تو ایسے افعال نہیں کرتا۔اِس قسم کی باتیں خدا تعالیٰ کے نبیوں کی طرف منسوب کرنا اُن کی عزت کو نہیں بڑھاتا بلکہ اُن کو نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلک بیوقوفوں کے زمرہ کی طرف منسوب کرتا ہے اور ہر عقلمند انسان کا کام ہے کہ اِس بات کا مقابلہ کرے اور اِس