دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 431

چیز کو خوبی نہیں بلکہ الزام سمجھے اور اس کا ردّ کرے۔باقی رہا یہ کہ خدا تعالیٰ بعض ایسے افعال اپنے انبیاء کے ذریعہ سے صادر کرا دیتا ہے جو خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں کوئی رخنہ نہیں ڈالتے اور عقل کے خلاف نہیں ہوتے۔یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے اور قرآن کریم اِس بات کا مدعی ہے کیا غیب کا علم معجزہ نہیں۔کیا غیر معمولی حالات میں کسی کمزور انسان کو دنیا پر غالب کر دینا یہ معجزہ نہیں۔پھر جبکہ علاوہ قرآن کریم کے معجزہ کے قرآن کریم اِس بات کا بھی مدعی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر علم غیب ظاہر کیا جاتا تھا اور اِس بات کا بھی مدعی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خد اتعالیٰ اپنی قدرتیں اور اپنی تائیدیں ظاہر کیا کرتا تھا تو کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت معجزات کا انکار کرتا ہے۔قرآن کریم تو بار بار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف معجزات منسوب کرتا ہے۔کیا جب ایسے حالات میں مکہ والوں کی مخالفت کی خبر دی گئی تھی جبکہ اُن کی مخالفت کا کوئی امکان نہیں تھا، یا جب ہجرت کی خبر دی گئی اور اِس کا سن تک بتا دیا گیا یا جب قرآن کریم میں بدر کی جنگ کے واقعہ ہونے سے سالہا سال پہلے بدر کی جنگ کی خبر دی گئی اور اُس کے سال تک کی بھی خبر دی گئی اور اِس میں مسلمانوں کے جیتنے اور کفار کے ہارنے کی خبر دی گئی۔یا جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کرنے کی خبر دی گئی اور پھر ایک غالب اور فاتح شخص کی حیثیت میں مکہ میں واپس لوٹنے کی خبر دی گئی یا جب قرآن کریم میں رومیوں کی خطرناک شکست کے بعد اُن کے دوبارہ کامیاب ہو جانے اور ایرانیوں کے شکست کھانے کی خبردی گئی یا جب قرآن کریم نے اِسلام کے تمام عرب میں پھیل جانے کی خبر دی اور پھر دنیا کے دوسرے تمام ادیان پر غالب آجانے کی خبر دی اور آئندہ واقعات نے اِن تمام باتوں کی تصدیق کر دی تو کیا یہ معجزہ نہ تھا؟ اور کیا اِن باتوں کے بیان کرنے کے بعد قرآن کریم یہ دعویٰ کر سکتا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی معجزہ نہیں دکھایا؟ قرآن کریم کی جن آیتوں سے معترضین یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی معجزہ نہیں دکھایا درحقیقت اِس کا باعث اِن کی عربی سے ناواقفیت اور قرآن کریم کے