دیباچہ تفسیر القرآن — Page 428
۵۵۳؎ اِن آیات میں یہ خبر دی گئی ہے کہ دنیا میں دو سمندر ہیں جوا یک دوسرے سے جدا جدا ہیں، لیکن ایک دن آئے گا جب وہ آپس میں ملا دئیے جائیں گے اِن میں بڑے بڑے اُونچے جہاز سفر کریں گے اور اِن سمندروں کی علامت یہ ہے کہ موتی اور مونگا اُن میں سے نکالا جاتا ہے۔یہ پیشگوئی بعینہٖ نہر سویز اور نہر پانامہ پر پوری ہوئی۔موتی اور مونگا بھی وہاں ہوتا ہے بڑے بڑے جہاز بھی اُن میں چلتے ہیں اور دو دو سمندر اِن نہروں کے ذریعہ سے ملا دئیے گئے ہیں۔اِسی طرح اور بیسیوں پیشگوئیاں ہیں جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں جو اِس زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں جیسا کہ سورۃ کہف کے پڑھنے سے ناظرین کو معلوم ہو گا کہ قرآن کریم میں آخری زمانہ میں عیسائیوں کے غلبہ کی بھی خبر دی گئی ہے۔دنیا میں اُن کے پھیل جانے کی بھی خبر دی گئی ہے۔اُن کی سمندری طاقت کی بھی خبر دی گئی ہے۔اُن کی باہمی لڑائیوں کی بھی خبر دی گئی ہے اور آخر میں اِسلام کی فتح اور کامیابی کی بھی خبر دی گئی ہے۔اور سب پیشگوئیاں پوری ہو چکی ہیں اب اِسلا م کی فتح کی پیشگوئی پوری ہونی باقی ہے۔یورپ کا عیسائی یا یورپ کا دہریہ اگراِسلام کی کمزور حالت دیکھ کر ہنستا ہے تو ہنسا کرے مگر جس خدا نے وہ پیشگوئیاں پوری کی ہیں وہی خد ایہ آخری پیشگوئی بھی ضرور پوری کرے گا۔اِسلام کی فتح کے دن آرہے ہیں تمام تاریکیوں اور تمام ظلمتوں میں سے میں اِسلام کے سورج کو جھانکتے ہوئے دیکھتا ہوں۔خدا تعالیٰ کی فوجیں آسمان سے اُتر رہی ہیں۔بیشک شیطانی فوجوں کا اِس وقت دنیا پر غلبہ ہے لیکن وہ دن قریب سے قریب تر آرہے ہیں جب خد اکی فوجیں شیطان کی فوجوں کو شکست دے دیںگی۔جب خد اکی توحید دنیا میں پھر قائم ہوگی۔جب پھر دنیا یہ تسلیم کرلے گی کہ قرآن ہی ایک ایسی کتاب ہے جو خدا اور بندے میں صلح کراتی ہے اور خدا کی بادشاہت کو اِس دنیا میں قائم کرتی ہے اور بنی نوع انسان میں انصاف اور عدل کو قائم کرتی ہے۔معجزات عیسائی مؤرخ بِالعموم اِس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ قرآن کریم اپنی نسبت معجزات کا مدعی نہیں۔سوائے اِس کے کہ قرآن کریم کی نسبت یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ