دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 427

(۷) آپ ابھی مکہ میں ہی تھے کہ عرب میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ ایرانیوں نے رومیوں کو شکست دے دی ہے اِس پر مکہ والے بہت خوش ہوئے کہ ہم بھی مشرک ہیں اور ایرانی بھی مشرک۔ایرانیوں کا رومیوں کو شکست دے دینا ایک نیک شگون ہے اور اُس کے معنی یہ ہیں کہ مکہ والے بھی محمد رسول اللہ ﷺپر غالب آجائیں گے مگر محمد رسول اللہ ﷺ کو خدا نے بتایا کہ ۵۵۲؎ رومی حکومت کو شام کے علاقہ میں بے شک شکست ہوئی ہے لیکن اِس شکست کو تم قطعی نہ سمجھو مغلوب ہونے کے بعد رومی پھر ۹ سال کے اندر غالب آجائیں گے۔اِس پیشگوئی کے شائع ہونے پر مکہ والوں نے بڑے بڑے قہقہے لگائے یہاں تک کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بعض کفار نے سَو سَو اُونٹ کی شرط باندھی کہ اگر اتنی شکست کھانے کے بعد بھی روم ترقی کر جائے تو ہم تمہیں سَو اُونٹ دیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو تم ہمیں سَو اُونٹ دینا۔بظاہر اِس پیشگوئی کے پورا ہونے کا امکان دور سے دور تر ہوتا چلا جا رہا تھا۔شام کی شکست کے بعد رومی لشکر متواتر کئی شکستیں کھاکر پیچھے ہٹتا گیا یہاںتک کہ ایرانی فوجیں بحیرہ مار مورا (MARMARA SEA) کے کناروں تک پہنچ گئیں۔قسطنطنیہ اپنی ایشیائی حکومتوں سے بالکل منقطع ہو گیا اور روم کی زبردست حکومت ایک ریاست بن کر رہ گئی، مگر خد اکا کلام پورا ہونا تھا اور پورا ہوا۔انتہائی مایوسی کی حالت میں روم کے بادشاہ نے اپنے سپاہیوں سمیت آخری حملہ کے لئے قسطنطنیہ سے خروج کیا اور ایشیائی ساحل پر اُتر کر ایرانیوں سے ایک فیصلہ کن جنگ کی طرح ڈالی۔رومی سپاہی باوجود تعداد اور سامان میں کم ہونے کے قرآن کریم کی پیشگوئی کے مطابق ایرانیوں پر غالب آئے ایرانی لشکر ایسا بھاگا کہ ایران کی سرحدوں سے ورے اُس کا قدم کہیں بھی نہ ٹھہرا اور پھر دوبارہ رومی حکومت کے افریقی اور ایشیائی مفتوحہ ممالک اس کے قبضہ میں آگئے۔(۸) یہ تو پرانی باتیں ہیں۔اِسلام نے اس زمانہ کے متعلق بھی بہت سی خبریں دی ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں نہر سویز اور نہر ناپامہ کے متعلق خبر دی گئی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔