دیباچہ تفسیر القرآن — Page 417
لکھے۔پھر مسلمانوں میں حفظِ قرآن کی شروع سے اتنی کثرت پائی جاتی ہے کہ ہر زمانہ میں ایک لاکھ سے دو لاکھ تک حافظ دنیا میں موجود رہا ہے بلکہ اِس سے بھی بہت زیادہ حافظ دنیا میں پائے جاتے ہیں۔حافظ اُس کو کہتے ہیں جو شروع سے لے کر آخر تک اس کے تمام حصوں کو یاد رکھتا ہے۔عام طور پر یورپین مصنف اپنی ناواقفی کی وجہ سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ جبکہ دنیا میں بائبل کا کوئی حافظ نہیں ملتا تو قرآن شریف کا کوئی حافظ کہاں ہو سکتا ہے حالانکہ قرآن کریم کا یہ معجزہ ہے کہ وہ ایسی سریلی زبان میں نازل ہوا ہے کہ اِس کا حفظ کرنا نہایت ہی آسان ہے۔میرا بڑا لڑکا ناصر احمد جو آکسفورڈ کا بی۔ا ے آنرز اور ایم اے ہے میں نے اُسے دُنیوی تعلیم سے پہلے قرآن کریم کے حفظ پر لگایا اور وہ سارے قرآن کا حافظ ہے۔قادیان میں دو ڈاکٹر حافظ ہیں۔اِسی طرح اور بہت سے گریجوایٹ اور دوسرے لوگ حافظ ہیں۔جن ڈاکٹروں کا میں نے ذکر کیا ہے اُن میں سے ایک نے صرف چار پانچ مہینے میں قرآن شریف حفظ کیا تھا چوہدری سر ظفرا للہ صاحب جج فیڈرل کورٹ آف انڈیا (حال وزیر خارجہ پاکستان) کے والد صاحب نے اپنی آخری عمر میں جبکہ وہ قریباً ساٹھ سال کے تھے، چند مہینوں میں سارا قرآن حفظ کر لیا تھا۔حافظ غلام محمد صاحب سابق مبلغ ماریشس نے تین مہینہ میں قرآن شریف حفظ کیا تھا۔نواب جمال الدین خاں صاحب جو ایک سابق والیۂ ریاست بھوپال کے خاوند تھے اُن کے ایک نواسے مجھے حج میں ملے تھے جنہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ اُنہوں نے ایک مہینہ میں سارا قرآن شریف حفظ کیا تھا۔اِس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ قرآن کریم کی عبارت اِس قسم کی ہے کہ اس کا حفظ کرنا دوبھر معلوم نہیں ہوتا۔میں نے بڑے بڑے بوڑھے لوگوں سے سنا ہے کہ میرے جد امجد مرزا گل محمد صاحب جو عالمگیر ثانی کے وقت میں تھے باوجود ا ِس کے کہ کوئی بہت بڑے رئیس نہیں تھے اُن کی ریاست صرف اڑھائی سَو مربع میل کے علاقہ پر حاوی تھی، اِن کے دربار میں پانچ سَو حافظ موجود رہتا تھا۔ہندوستان جیسے ملک میں جو عربی زبان سے بہت ہی ناواقف ہے، بعض حصے ایسے پائے جاتے ہیں جن میں صدیوں سے اکثر لوگ حافظ چلے آتے ہیں۔ایک ترکیب مسلمانوں نے قرآن کریم کی حفاظت کی یہ بھی اختیار کر رکھی ہے اور جس ترکیب پر صدیوں سے عمل ہوتا چلا آ رہا ہے کہ جو پیدائشی نابینا ہوتے ہیں اِن کو قرآن شریف