دیباچہ تفسیر القرآن — Page 416
زبان کے مطابق تھیں سب ملکوں میں کاپیاں تقسیم کر دیں اور آئندہ کے متعلق حکم دے دیا کہ سوائے مکی لہجہ کے اور کسی قبائلی لہجہ میں قرآن شریف نہ پڑھا جائے۔اِس امر کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یورپ کے مصنف اور دوسری قوموں کے مصنف ہمیشہ یہ اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ نے کوئی نیا قرآن بنا دیا تھا یا عثمانؓ نے کوئی نئی تبدیلی قرآن کریم میں کر دی تھی لیکن حقیقت وہ ہے جو میں نے اُوپر بیان کی۔وہ مصنف اپنے خیال میں قرآن شریف پر بڑا بھاری اعتراض کرتے ہیں اور وہ لوگ جو عربی زبان سے واقف ہیں اور قرآن کریم کی تاریخ سے آگاہ ہیں وہ اُن کے اعتراض کو پڑھ کر اُن کی جہالت پر ہنستے ہیں۔یہ بات ثابت کر چکنے کے بعد کہ حضرت عثمانؓ کے زمانہ تک قرآن کریم اُسی شکل میں موجود تھا جس شکل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ا ب میں یہ بتاتا ہوں کہ حضرت عثمانؓ کے بعد یہ تواتر اَور بھی زیادہ مضبوط ہو گیا۔حضرت عثمانؓ نے قرآن کریم کے نسخے مختلف ممالک میں پھیلا دیئے تو اُن سے اتنی نقلیں کی گئیں اور اِس کثرت سے قرآن کریم پھیلا کہ قریباً ہر تعلیم یافتہ آدمی کے پاس قرآن کریم موجود ہوتا تھا۔چنانچہ جب حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان لڑائی ہوئی تو اس کے متعلق تاریخوں میں آتا ہے کہ حضرت معاویہؓ کے تمام سپاہیوں نے قرآن شریف اپنے نیزوں پر لٹکا کر یہ نعرے لگائے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان قرآن فیصلہ کرے گا۔اِس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس زمانہ میں قریباً ہر فردِ بشر کے پاس قرآن شریف کا نسخہ ہوتا تھا۔قرآن شریف کو مسلمان حفظ کرتے رہے اور اِس کے نسخے لکھتے رہے چونکہ قرآن شریف کے پڑھنے اور لکھنے اور پھیلانے کو بہت بڑا ثواب قرار دیا گیا تھا اِس لئے اِسلامی حکومت میں بڑے بڑے علماء اور بادشاہ تک قرآن کریم کی کاپیاں لکھا کرتے تھے۔عرب اور اس کے اِردگرد کے بادشاہوں اور علماء کا تو ذکر چھوڑو ہندوستان جیسے ملک میں جو عرب سے بہت دُور واقع ہوا تھا اور جہاں ہندو رسم ورواج غالب آچکا تھا مغل بادشاہ اورنگ زیب اپنی فرصت کے اوقات میں قرآن شریف لکھا کرتا تھا۔چنانچہ کہا جاتا ہے کہ اُس نے اپنی عمر میں سات نسخے قرآن کریم کے