دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 415

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن کی کتابت پر مقرر تھا اور اُس کا حافظ تھا اور جبکہ قرآن روزانہ پڑھا جاتا تھا۔کیا یہ ہو سکتا تھا کہ اِس جلد میں کوئی غلطی ہو جاتی اور باقی حافظ اس کو پکڑ نہ لیتے۔اگر اس قسم کی شہادت پر شبہ کیا جائے تو پھر تو دنیا میں کوئی دلیل باقی نہیں رہتی۔حق یہ ہے کہ دنیا کی کوئی تحریر ایسے تواتر سے دنیا میں قائم نہیں جس تواتر سے قرآن شریف قائم ہے۔حضرت ابوبکرؓ کے بعد حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں یہ شکایت آئی کہ مختلف قبائل کے لوگ مختلف قراء توں کے ساتھ قرآن کریم کو پڑھتے ہیں اور غیر مسلموں پر اس کا بُرا اثر پڑتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم کے کئی نسخے ہیں۔اس قراء ت کے متعلق میں اُوپر لکھ چکا ہوں کہ اس قراء ت سے مراد یہ ہے کہ کوئی قبیلہ کسی حرف کو زبر سے پڑھتا ہے دوسرا زیر سے پڑھتا ہے تیسرا پیش سے پڑھتا ہے اور یہ بات سوائے عربی کے اور کسی زبان میں نہیں پائی جاتی۔اِس لئے عربی نہ جاننے والا آدمی جب یہ سنے گا تو وہ سمجھے گا کہ یہ کچھ کہہ رہا ہے اور وہ کچھ کہہ رہا ہے حالانکہ کہہ وہ ایک ہی بات رہے ہوں گے۔پس اس فتنہ سے بچانے کے لئے حضرت عثمانؓ نے یہ تجویز فرمائی کہ حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں جو نسخہ لکھا گیا تھا اس کی کاپیاں کروالی جائیں اور مختلف ملکوں میں بھیج دی جائیں اور حکم دے دیا جائے کہ بس اِسی قراء ت کے مطابق قرآن پڑھنا ہے اور کوئی قراء ت نہیں پڑھنی۔یہ بات جو حضرت عثمانؓ نے کی بالکل معیوب نہ تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عرب لوگ قبائلی زندگی بسر کرتے تھے یعنی ہر قبیلہ دوسرے قبیلہ سے الگ رہتا تھا اس لئے وہ اپنی اپنی بولی کے عادی تھے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر جمع ہو کر عرب لوگ متمدن ہو گئے اور ایک عامی زبان کی بجائے عربی زبان ایک علمی زبان بن گئی۔کثرت سے عرب کے لوگ پڑھنے اور لکھنے کے علم سے واقف ہو گئے جس کی وجہ سے ہر آدمی خواہ کسی قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا اُسی سہولت سے وہ لفظ ادا کر سکتا تھا جس طرح علمی زبان میں وہ لفظ بولا جاتا تھا جو درحقیقت ملک کی زبان تھی۔پس کوئی وجہ نہ تھی کہ جب سارے لوگ ایک علمی زبان کے عادی ہو چکے تھے اُنہیں پھر بھی اجازت دی جاتی کہ وہ اپنے قبائلی تلفظ کے ساتھ ہی قرآن شریف کو پڑھتے چلے جائیں اور غیر قوموں کے لئے ٹھوکر کا موجب بنیں۔اِس لئے حضرت عثمانؓ نے اِن حرکات کے ساتھ قرآن شریف کو لکھ کر جو مکہ کی