دیباچہ تفسیر القرآن — Page 396
بعض لوگ نادانی سے یہ سمجھتے ہیں کہ گناہ کا اظہار تو بہ پید اکرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ گناہ کا اظہار توبہ پیدا نہیں کرتا، گناہ کا اظہار بے حیائی پیدا کرتا ہے۔گناہ بہرحال بُرا ہے مگر جو لوگ گناہ کرتے ہیں اور اُن کے دل میں شرم اور ندامت محسوس ہوتی ہے اُن کے لئے توبہ کا راستہ کھلا رہتا ہے اور تقویٰ اُن کے پیچھے پیچھے چلا آرہا ہوتا ہے۔کوئی نہ کوئی نیک موقع ایسا آجاتا ہے کہ تقویٰ غالب آجاتا ہے اور گناہ بھاگ جاتا ہے۔مگر جو لوگ اپنے گناہوں کو پھیلاتے اور ان پر فخر کرتے ہیں ان کے دل سے احساسِ گناہ بھی مٹ جاتا ہے اور جب احساسِ گناہ بھی مٹ جائے تو پھر توبہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اُس نے کہا۔یَارَسُوْلَ اللّٰہ! میں نے زنا کیا ہے۔زنا اسلام میں تعزیری جرائم میں سے ہے یعنی اسلامی شریعت جہاں جاری ہو وہاں ایسے شخص کو جس کا زنا اسلامی اصول کے مطابق ثابت ہو جائے جسمانی سزا دی جاتی ہے۔جب اُس نے کہا۔یَارَسُوْلَ اللّٰہ! میں نے زنا کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی طرف سے منہ پھیر لیا اور دوسری طرف باتوں میں مشغول ہو گئے۔درحقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس کو یہ بتا رہے تھے کہ جس گناہ پر خد انے پردہ ڈال دیا ہے اس کا علاج توبہ ہے اس کا علاج اعلان نہیں۔مگر وہ اِس بات کو نہ سمجھا اور یہ خیال کیا کہ شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات کو سنا نہیں اور جس طرف آپ کا منہ تھا اُدھر کھڑا ہو گیا اور پھر اُس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! میں نے زنا کیا ہے۔پھر آپ نے دوسری طرف منہ کر لیا۔پھر بھی وہ نہ سمجھا اور دوسری طرف آکر اُس نے پھر اپنی بات دُہرائی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اُس کی طرف توجہ نہ کی اور دوسری طرف منہ پھیر لیا۔پھر وہ شخص اُس طرف آکھڑا ہوا جس طرف آپ کا منہ تھا اور پھر اُس نے چوتھی دفعہ وہی بات کہی۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں توچاہتا تھا کہ یہ اپنے گناہ کی آپ تشہیر نہ کرے جب تک خدا اِس کی گرفت کا فیصلہ نہیں کرتا مگر اِس نے چار دفعہ اپنے نفس پر خود ہی گواہی دی ہے اس لئے اب میں مجبور ہوں ۵۰۷؎ پھر فرمایا اس شخص نے اپنے آپ پر الزام لگایا ہے۔اُس عورت نے الزام نہیں لگایا جس کے متعلق یہ زنا کا دعویٰ کرتا ہے اُس عورت سے پوچھو۔اگر وہ انکار کرے تو اُسے کچھ مت کہو اور