دیباچہ تفسیر القرآن — Page 395
جلا دے یا کوئلوں کی بدبو سے اُس کا دماغ خراب ہوجائے۔۵۰۳؎ آپ اپنے صحابہؓ کو بار بار فرمایا کرتے تھے کہ انسان کے اخلاق ویسے ہی ہو جاتے ہیں جیسی مجلس میں وہ بیٹھتا ہے اس لئے نیک صحبت اختیار کیا کرو۔لوگوں کے ایمان کی حفاظت کا خیال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کا بہت خیال رکھتے تھے کہ کسی شخص کو ٹھوکر نہ لگے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے کہ آپ کی ایک بیوی صفیہؓ بنت حیی آپ سے ملنے آئیں۔باتیں کرتے کرتے دیر ہو گئی تو آپ نے مناسب سمجھا کہ اُن کو گھر تک پہنچا آئیں۔جب آپ اُن کو گھر چھوڑنے کے لئے جار ہے تھے تو راستہ میں دو شخص ملے، جن کے متعلق آپ کو شبہ تھا کہ شاید اُن کے دل میں کوئی وسوسہ پیدا نہ ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی عورت کے ساتھ رات کے وقت کہاں جا رہے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو ٹھہرا لیا اور فرمایا۔دیکھو! یہ میری بیوی صفیہؓ ہیں۔اُنہوں نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہ! ہمیں آپ پر بدظنی کا خیال پیدا ہی کس طرح ہو سکتا ہے۔آپ نے فرمایا۔شیطان انسان کے خون میں پھرتا ہے میں ڈرا کہ تمہارے ایمان کو ضعف نہ پہنچ جائے۔۵۰۴؎ دوسروں کے عیوب چھپانا آپ کی نظر میں اگر کسی کا عیب آجاتا تو آپ اُسے چھپاتے تھے اور اگر کوئی اپنا عیب ظاہر کرتا تھا تو اُس کو بھی عیبظاہر کرنے سے منع فرماتے تھے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ جو بندہ کسی دوسرے بندے کا گناہ دنیا میں چھپاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ قیامت کے دن چھپائے گا۔۵۰۵؎ آپ یہ بھی فرماتے تھے کہ میری اُمت میں سے ہر شخص کا گناہ مٹ سکتاہے (یعنی توبہ سے) مگر جو اپنے گناہوں کا آپ اظہار کرتے پھریں اُن کا کوئی علاج نہیں۔پھر فرماتے کہ آپ اظہار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص رات کے وقت گناہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اُس پر پردہ ڈال دیتا ہے مگر صبح کے وقت وہ اپنے دوستوں سے ملتا ہے تو کہتا ہے کہ اے فلانے! میں نے رات کو یہ کام کیا تھا، اے فلانے! میں نے رات کو یہ کام کیا تھا۔رات کو خدا اُس کے گناہ پر پردہ ڈال رہا تھا صبح یہ اپنے گناہ کو آپ ننگا کرتا ہے۔۵۰۶؎