دیباچہ تفسیر القرآن — Page 390
آئے دن کے وقت گھر میں داخل ہو اور بیوی بچوں کو پہلے خبر دے کر داخل ہو تاکہ وہ اس کے استقبال کے لئے پوری طرح تیاری کر لیں۔وفات یافتوں کے متعلق آپ کا عمل آپ ہمیشہ یہ بھی نصیحت فرماتے رہتے تھے کہ مرنے والے کو وصیت کر دینی چاہئے تاکہ اس کے رشتہ داروں کو بعد میںتکلیف نہ پہنچے۔مرنے والوں کے متعلق آپ کی یہ بھی ہدایت تھی کہ جب کوئی شخص شہر میں مرجائے تو لوگوں کو اس کی بُرائیاں کبھی بیان نہیں کرنی چاہئیں بلکہ اُس کی خیر کی باتیں کرنی چاہئیں کیونکہ اس کی بُرائی بیان کرنے میں کوئی فائدہ نہیں لیکن اس کی نیکی بیان کرنے میں یہ فائدہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اس کے لئے دعا کی تحریک پیدا ہو گی۔۴۸۴؎ آپ اِس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ جولوگ مر جائیں اُن کے قرض جلدسے جلد ادا کئے جاویں۔چنانچہ جب کوئی شخص مر جاتا اور اُس پر قرض ہوتا تو آپ یا تو خود اُس کا قرض ادا کردیتے ۴۸۵؎ اورا گر آپ میں اس کی توفیق نہ ہوتی تو اس کے رشتہ داروں میں تحریک کرتے اور اس کا جنازہ اُس وقت تک نہیں پڑھتے تھے جب تک اُس کا قرض ادا نہ کر دیا جاتا۔ہمسایوں سے حسنِ سلوک ہمسایوں کے ساتھ آپ کا سلوک نہایت ہی اچھا ہوتا تھا آپ فرمایا کرتے تھے جبریل مجھے بار بار ہمسایوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے یہاں تک کہ مجھے خیال آتا ہے کہ ہمسائے کو شاید وارث ہی قرار دیا جائے گا۔۴۸۶؎ حضرت ابوذرؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اے ابوذر! جب کبھی شوربا پکائو تو پانی زیادہ ڈال لیا کرو اور اپنے ہمسایوں کا بھی خیال رکھا کرو۔۴۸۷؎ یہ مطلب نہیں کہ دوسری چیزیں دینے کی ضرورت نہیں، بلکہ عرب بدوی تھے اور اُن کا بہترین کھانا شوربا ہوتا تھا آپ نے ہمسایہ کی امداد کے خیال سے اسی کھانے کی نسبت فرمایا کہ اپنے مزے کا خیال نہ کرو اس کا خیال کرو کہ تمہارا ہمسایہ تمہارے کھانے میں شریک ہوسکے۔