دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 335

بعض نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہ! ہمارے لئے بھی آپ ایک ذاتِ انواط مقرر فرمائیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا۔ا للہ بڑا ہے یہ تو وہی موسٰی ؑ کی قوم والی بات ہوئی کہ جب وہ کنعان کی طرف روانہ ہوئے اور کنعان کے قبائل کو اُنہوں نے بت پوجتے دیکھا تو موسیٰ سے مخاطب ہو کر کہا ۳۷۰؎ اے موسٰی! جس طرح ان کے معبود ہیں ہمارے لئے بھی کوئی معبود تجویز کر دیجئے۔فرمایا یہ تو جہالت کی باتیں ہیں میں ڈرتا ہوں کہ اِس قسم کے وہموں کی وجہ سے کہیں تم میں سے بھی ایک گروہ ایسی ہی حرکتیں نہ کرنے لگ جائے۔۳۷۱؎ ہوازؔن اور ان کے مدد گار قبائل نے ایک کمین گاہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے بنا چھوڑی تھی جیسے آجکل لڑائی کے میدان میں مخفی خندقیں ہوتی ہیں جب اسلامی لشکر حنین مقام پر پہنچاتو وہ ان کے سامنے چھوٹی چھوٹی منڈیریں بنا کر ان کے پیچھے بیٹھ گئے اور بیچ میں سے ایک تنگ راستہ مسلمانوں کے لئے چھوڑ دیا۔اکثر سپاہی تو ان ٹیلوں کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گئے اور کچھ سپاہی اُونٹوں وغیرہ کے سامنے صف بند ہو کر کھڑے ہو گئے۔مسلمانوں نے یہ سمجھ کر کہ لشکر وہی ہے جو سامنے کھڑا ہے آگے بڑھ کر اُس پر حملہ کر دیا۔جب مسلمان کافی آگے بڑھ چکے اور کمین گاہ کے سپاہیوں نے دیکھا کہ اب ہم اچھی طرح حملہ کر سکتے ہیں تو اگلی کھڑی فوج نے سامنے سے حملہ کر دیا اور پہلوئوں سے تیر اندازوں نے بے تحاشا تیر برسانے شروع کر دئیے۔مکہ کے لوگ جو یہ سمجھ کر ساتھ شامل ہوئے تھے کہ آج ہم کو بھی بہادری دکھانے کا موقع ملے گا اِس دو طرفہ حملہ کی برداشت نہ کر سکے اور واپس مکہ کی طرف بھاگے۔مسلمان گو اس قسم کی تکالیف اُٹھانے کے عادی تھے مگر جب دوہزار گھوڑے اور اُونٹ اُن کی صفوں میں سے بے تحاشا بھاگتے ہوئے نکلے توا ن کے گھوڑے اور اُونٹ بھی ڈر گئے اور سارے کا سارا لشکر بے تحاشا پیچھے کی طرف دَوڑ پڑا۔تین طرف کے حملہ میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ ۱۲صحابی کھڑے رہے۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ سارے صحابہؓ بھاگ گئے تھے بلکہ ۱۰۰ کے قریب اَور آدمی بھی میدان میں کھڑے رہے تھے مگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فاصلہ پر تھے۔آپ کے گرد صرف ایک درجن قریب آدمی رہ گئے۔ایک صحابی کہتے ہیں میں اور میرے ساتھی