دیباچہ تفسیر القرآن — Page 334
کیوں کیا ہے؟ توا نہوں نے کہا اس لئے تا سپاہیوں کو یہ خیال رہے کہ اگر ہم بھاگے تو ہماری بیویاں اور ہماری اولادیں قیدہو جائیں گی اورہمارے مال لوٹے جائیں گے اس سے معلوم ہوتاہے کہ وہ کتنے پختہ ارادہ کے ساتھ مسلمانوں کو تباہ کرنے کیلئے نکلے تھے۔آخر یہ لشکر وادی اوطاس میں آکر اُترا جو جنگ کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی وادی تھی کیونکہ اس میں پناہ کی جگہیں بھی تھیں اور جانوروں کے لئے چارہ اور انسانوں کے لئے پانی بھی موجود تھا اور گھوڑے دَوڑانے کیلئے زمین بھی بہت ہی مناسب تھی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اِس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے عبداللہ بن اُبی حدردؓ نامی ایک صحابی کو حقیقت حال معلوم کرنے کے لئے بھیجا۔عبداللہ نے آکر اطلاع دی کہ واقعہ میں ان کا لشکر جمع ہے اور وہ لڑنے مرنے پر آمادہ ہیں۔چونکہ یہ قوم بڑی تیر انداز تھی اور جس جگہ پر اُنہوں نے ڈیرہ ڈالا تھا وہ مقام ایسا تھا کہ صرف ایک محدود جگہ پر لڑائی کی جا سکتی تھی اور اس جگہ پر بھی حملہ آور بڑی صفائی کے ساتھ تیروں کا نشانہ بنتا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے سردار صفوان سے جو بہت بڑے مالدار اور تاجر تھے اس جنگ کے لئے ہتھیار اور کچھ روپیہ مانگا۔صفوان نے کہا اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا اپنی حکومت کے زور پر آپ میرا مال چھیننا چاہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں ہم چھیننا نہیںچاہتے بلکہ تم سے عاریتہ مانگتے ہیں اور اس کی ضمانت دینے کو تیار ہیں۔اِس پر اُس نے کہا تب کوئی حرج نہیں آپ مجھ سے یہ چیزیں لے لیں اور اُس نے سَو زِرہیں اور ان کے ساتھ مناسب ہتھیار عاریتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دئیے اور اس کے علاوہ تین ہزار روپیہ قرض دیا۔اسی طرح آپ نے اپنے چچا زاد بھائی نوفل بن حارث سے تین ہزار نیزہ عاریتہ لیا۔جب یہ لشکر ہوازؔن کی طرف چلا تو مکہ والوں نے خواہش کی کہ گوہم مسلمان نہیں ہیں لیکن اب چونکہ ہم اسلامی حکومت میں شامل ہو چکے ہیں ہم کو بھی لڑائی میں شامل ہونے کا موقع دیا جائے چنانچہ دو ہزار آدمی مکہ سے آپ کے ساتھ روانہ ہوا۔راستہ میں عرب کی ایک مشہور زیارت گاہ پڑتی تھی جس کو ذات انواط کہتے تھے۔یہ ایک پُرانا بیری کا درخت تھا جس کو عرب کے لوگ متبرک سمجھتے تھے اور جب عرب کے بہادر لوگ کوئی ہتھیار خریدتے تو پہلے ذاتِ انواط میں جا کر لٹکاتے تھے تاکہ اس کو برکت حاصل ہو جائے۔جب صحابہؓ اس کے پاس سے گزرے تو