دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 283

لوگ جنگی قیدی کہلا سکتے ہیں جو میدانِ جنگ میں شامل ہوں اور لڑائی کے بعد قید کئے جائیں۔(۹) پھر اُن قیدیوں کے متعلق فرماتا ہے ۔۳۱۱؎ یعنی جب جنگی قیدی پکڑے جائیں تو یا تو احسان کر کے اُنہیں چھوڑ دو یااُن کا بدلہ لے کے اُن کو آزاد کر دو۔(۱۰) اگر کوئی قیدی ایسے ہوں جن کا بدلہ دینے والا کوئی نہ ہو یا اُن کے رشتہ دار اُن کے اموال پر قابض ہونے کیلئے یہ چاہتے ہوں کہ وہ قید ہی رہیں تو اچھاہے تو اُن کے متعلق فرماتا ہے۔۔۳۱۲؎ یعنی تمہارے جنگی قیدیوں میں سے ایسے لوگ جن کو نہ تم احسان کر کے چھوڑ سکتے ہو اور نہ اُن کی قوم نے اُن کا فدیہ دے کر اُنہیں آزاد کروایا ہے ا گر وہ تم سے یہ مطالبہ کریںکہ ہمیں آزاد کر دیا جائے ہم اپنے پیشہ اور ہنر کے ذریعہ سے روپیہ کما کر اپنے حصہکا جرمانہ ادا کر دیں گے تو اگر وہ اس قابل ہیں کہ آزدانہ روزی کما سکیں تو تم ضرور اُنہیں آزاد کر دو بلکہ اُن کی کوشش میں خود بھی حصہ دار بنو اور خدا نے جو کچھ تمہیں دیا ہے اُس میں سے کچھ روپیہ اُن کے آزاد کرنے میں صرف کر دو یعنی اُن کے حصہ کا جو جنگی خرچ بنتا ہے یا اُس میں سے کچھ مالک چھوڑ دے یا دوسرے مسلمان مل کر اُس قیدی کی مالی امداد کریں اور اُسے آزاد کرائیں۔یہ وہ حالات ہیں جن میں اسلام جنگ کی اجازت دیتا ہے اور یہ وہ قواعد ہیں جن کے ماتحت اسلام جنگ کی اجازت دیتا تھا۔چنانچہ قرآن کریم کی اِن آیات کی روشنی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مزید تعلیمات مسلمانوں کو دیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:۔۱۔کسی صورت میں مسلمانوں کو مثلہ کرنے کی اجازت نہیں، یعنی مسلمانوں کو مقتولین جنگ کی ہتک کرنے یا اُن کے اعضاء کاٹنے کی اجازت نہیں ہے۔۳۱۳؎ ۲۔مسلمانوں کو کبھی جنگ میں دھوکا بازی نہیں کرنی چاہئے۔۳۱۴؎ ۳۔کسی بچے کو نہیں مارنا چاہئے اور نہ کسی عورت کو۔۳۱۵؎ ۴۔پادریوں،پنڈتوں اور دوسرے مذہبی رہنمائوں کو قتل نہیں کرنا چاہئے۔۳۱۶؎