دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 275

جنگ کے متعلق اِسلام کی تعلیم اِسلام اِن دونوں قسم کی تعلیموں کے درمیان درمیان تعلیم دیتا ہے یعنی نہ تو وہ موسٰی ؑ کی طرح کہتا ہے کہ تو جارحانہ طور پر کسی ملک میں گھس جا اور اُس قوم کو تہہ تبلیغ کر دے اور نہ وہ اِس زمانہ کی بگڑی ہوئی مسیحیت کی طرح ببانگِ بلندیہ کہتا ہے ’’ اگر کوئی تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تو اپنا دوسرا گال بھی اُس کی طرف پھیر دے‘‘۔مگر اپنے ساتھیوں کے کان میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ تم اپنے کپڑے بیچ کر بھی تلواریں خریدلو۔بلکہ اسلام وہ تعلیم پیش کرتا ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے او ر جو امن اور صلح کے قیام کے لئے ایک ہی ذریعہ ہو سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ تو کسی چیز پر حملہ نہ کر لیکن اگر کوئی شخص تجھ پر حملہ کرے اور اس کا مقابلہ نہ کرنا فتنہ کے بڑھانے کا موجب نظر آئے اور راستی اور امن اُس سے مٹتا ہو تب توا ُس کے حملہ کا جواب دے۔یہی وہ تعلیم ہے جس سے دنیا میں امن اور صلح قائم ہو سکتی ہے۔اِس تعلیم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا۔آپ مکہ میں برابر تکلیفیں اُٹھاتے رہے، لیکن آپ نے لڑائی کی طرح نہ ڈالی۔مگر جب مدینہ میں آپ ہجرت کر کے تشریف لے گئے اور دشمن نے وہاں بھی آپ کا پیچھا کیا تب خد اتعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ چونکہ دشمن جارحانہ کارروائی کر رہا ہے اور اسلام کو مٹانا چاہتا ہے اس لئے راستی اور صداقت کے قیام کے لئے آپ اس کا مقابلہ کریں۔قرآن کریم میں جو متفرق احکام اس بارہ میں آئے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں: (۱) اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔۳۰۲؎ یعنی اس لئے کہ اِن (مسلمانوں) پر ظلم کیا گیا اور ان مسلمانوں کو جن سے دشمن نے لڑائی جاری کر رکھی ہے، آج