دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 262

شروع کر دی۔گو اجتماعی حملہ مدینہ کے پچھواڑے کی طرف سے نہیں کیا کیونکہ اُدھر میدان چھوٹا تھا اور مسلمانوں کی فوجوں کی موجودگی میں بڑا حملہ اُس طرف سے نہیں ہو سکتا تھا لیکن کچھ دن بعد دونوں فریق نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک وقت مقررہ پر یہودیوں اور مشرکوں کے لشکر یکدم مسلمانوں پر حملہ کردیں۔مگر اُس وقت اللہ تعالیٰ کی تائید ایک عجیب طرح ظاہر ہوئی جس کی تفصیل یہ ہے۔نعیم نامی ایک شخص غطفان کے قبیلہ کا دل میں مسلمان تھا۔یہ شخص بھی کفّار کے ساتھ آیا ہوا تھا لیکن اس بات کی انتظار میں تھا کہ اگر مجھے کوئی موقع ملے تو میں مسلمانوں کی مدد کروں۔اکیلا انسان کر ہی کیا سکتا ہے۔مگر جب اُس نے دیکھا کہ یہود بھی کفّار سے مل گئے ہیں اور اب بظاہر مسلمانوں کی حفاظت کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا تو اِن حالات سے وہ اتنا متاثر ہو اکہ اُس نے فیصلہ کر لیا کہ بہرحال مجھے اس فتنہ کے دور کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا چاہئے۔چنانچہ جب یہ فیصلہ ہوا کہ دونوں فریق مل کر ایک دن حملہ کریں تو وہ بنو قریظہ کے پاس گیا اور اُن کے رئوساء سے کہا کہ اگر عربوں کا لشکر بھاگ جائے تو بتائو مسلمان تمہارے ساتھ کیا کریں گے؟ تم مسلمانوں کے معاہدہو اور معاہدہ کر کے اس کے توڑنے کے نتیجہ میں جو سزا تم کو ملے گی اُس کا قیاس کر لو۔اُن کے دل کچھ ڈرے اور اُنہوں نے پوچھا پھر ہم کیا کریں؟ نعیم نے کہا جب عرب مشترکہ حملہ کے لئے تم سے خواہش کریں تو تم مشرکین سے مطالبہ کرو کہ اپنے ۷۰ آدمی ہمارے پاس یرغمال کے طور پر بھیج دو وہ ہمارے قلعوں کی حفاظت کریںگے اور ہم مدینہ کے پچھواڑے سے اُس پر حملہ کر دیں گے۔پھر وہ وہاں سے ہٹ کر مشرکین کے سردارو ں کے پاس گیا اور اُن سے کہا کہ یہ یہود تو مدینہ کے رہنے والے ہیں اگر عین موقع پر یہ تم سے غداری کریں تو پھر کیا کرو گے؟ اگر یہ مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے اور اپنے جرم کو معاف کروانے کے لئے تم سے تمہارے آدمی بطور یرغمال مانگیں اور اُن کو مسلمانوں کے حوالے کر دیں تو پھر تم کیا کرو گے؟ تمہیں چاہئے کہ اُن کا امتحان لے لو کہ آیا وہ پکے رہتے ہیں یا نہیں اور جلد ہی اُن کو اپنے ساتھ باقاعدہ حملہ کرنے کی دعوت دو۔کفّار کے سرداروں نے اس مشورہ کو صحیح سمجھتے ہوئے دوسرے دن یہود کو پیغام بھیجا کہ ہم ایک اجتماعی حملہ کرنا چاہتے ہیں تم بھی اپنی فوجوں سمیت کل حملہ کردو۔بنوقریظہ نے کہا کہ اوّل تو کل ہمارا سبت کا دن ہے اس لئے ہم اس دن لڑائی نہیں کر