دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 263

سکتے۔دوسرے ہم مدینہ کے رہنے والے ہیں اور تم باہر کے۔اگر تم لوگ لڑائی چھوڑ کر چلے جائو تو ہمارا کیا بنے گا۔اس لئے آپ لوگ ہمیں ۷۰ آدمی یرغمال کے طور پر دیں گے تب ہم لڑائی میں شامل ہوں گے۔کفّار کے دل میں چونکہ پہلے سے شبہ پیدا ہو چکا تھا اُنہوں نے اُن کے اِس مطالبہ کوپورا کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر تمہارا ہمارے ساتھ اتحاد سچا تھا تو اس قسم کے مطالبہ کے کوئی معنی نہیں۔اِس واقعہ سے اُدھر یہود کے دلوں میں شبہات پیدا ہونے لگے اِدھر کفّار کے دلوںمیں شبہات پیدا ہونے لگے اور جیساکہ قاعدہ ہے جب شبہات دل میں پید اہو جاتے ہیں تو بہادری کی روح بھی ختم ہوجاتی ہے۔اِنہی شکوک و شبہات کو ساتھ لئے ہوئے کفّار کا لشکر رات کو آرام کرنے کے لئے اپنے خیموں میں گیا، تو خد اتعالیٰ نے آسمانی نصرت کا ایک اور راستہ کھول دیا۔رات کو ایک سخت آندھی چلی جس نے قناتوں کے پردے توڑ دئیے۔چولہوں پر سے ہنڈیاں گرادیں اور بعض قبائل کی آگیں بجھ گئیں۔مشرکینِ عرب میں ایک رواج تھا کہ وہ ساری رات آگ جلائے رکھتے تھے اور اِس کو وہ نیک شگون سمجھتے تھے۔جس کی آگ بجھ جاتی تھی وہ خیال کرتاتھا کہ آج کا دن میرے لئے منحوس ہے اور وہ اپنے خیمے اُٹھا کر لڑائی کے میدان سے پیچھے ہٹ جاتا تھا۔جن قبائل کی آگ بجھی اُنہوں نے اِس رواج کے مطابق اپنے خیمے اُٹھائے اور پیچھے کو چل پڑے تاکہ ایک دن پیچھے انتظار کر کے پھر لشکر میں آشامل ہوں۔لیکن چونکہ دن کے جھگڑوں کی وجہ سے سردارانِ لشکر کے دل میں شبہات پیدا ہو رہے تھے، جو قبائل پیچھے ہٹے اُن کے اِردگرد کے قبائل نے سمجھا کہ شاید یہود نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر شبخون مار دیا ہے اور ہمارے آس پاس کے قبائل بھاگے جار ہے ہیں۔چنانچہ اُنہوں نے بھی جلدی جلدی اپنے ڈیرے سمیٹنے شروع کر دئیے اور میدان سے بھاگنا شروع کیا۔ابوسفیان اپنے خیمہ میں آرام سے لیٹا تھا کہ اِس واقعہ کی خبر اُسے بھی پہنچی۔وہ گھبرا کے اپنے بندھے ہوئے اُونٹ پر جا چڑھا اور اُس کو ایڑیاں مارنی شروع کر دی۔آخر اُس کے دوستوں نے اس کو توجہ دلائی کہ وہ یہ کیا حماقت کر رہا ہے۔اِس پر اُس کے اُونٹ کی رسّیاں کھولی گئیں اور وہ بھی اپنے ساتھیوںسمیت میدان سے بھاگ گیا۔۲۹۲؎ رات کے آخری ثلث میں وہ میدان جس میں پچیس ہزار کے قریب کفّار کے سپاہی خیمہ زن