دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 258

منافقوں اور مؤمنوں کی حالت کا بیان اِس موقع پر منافق تو اتنے گھبرا گئے کہ قومی حمیت اور اپنے شہر اور اپنی عورتوں اور بچوں کی حفاظت کا خیال بھی اُن کے دلوں سے نکل گیا۔مگر چونکہ اپنی قوم کے سامنے وہ ذلیل بھی نہیں ہونا چاہتے تھے اس لئے اُنہو ں نے بہانے بہانے سے لشکر سے فرار کی صورت سوچی۔چنانچہ قرآن کریم میںآتا ہے۔۲۸۵؎ یعنی ایک گروہ اُن میں سے رسول کریم ﷺ کے پا س آیا اور آپ سے اجازت طلب کی کہ اُنہیں محاذِ جنگ سے پیچھے لوٹ آنے کی اجازت دی جائے۔کیونکہ اُنہوں نے کہا ( اب یہودی بھی مخالف ہو گئے ہیں اور اُس طرف سے مدینہ کے بچائو کا کوئی ذریعہ نہیں) اور ہمارے گھر اُس علاقہ کی طرف سے بے حفاظت کھڑے ہیں( پس ہمیں اجازت دیجئے کہ جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں) لیکن اُن کا یہ کہنا کہ اُن کے گھر بے حفاظت کھڑے ہیں بالکل غلط ہے۔وہ بے حفاظت نہیں ہیں (کیونکہ خدا تعالیٰ مدینہ کی حفاظت کیلئے کھڑا ہے) وہ تو صرف ڈر کے مارے میدانِ جنگ سے بھاگنا چاہتے ہیں۔اُس وقت مسلمانوں کی جو حالت تھی اُس کا نقشہ قرآن کریم نے یوں کھینچا ہے۔۔۲۸۶؎ یعنی یاد تو کرو جب تم پر لشکر چڑھ کے آگیا تمہارے اوپر کی طر ف سے بھی اور نیچے کی طرف سے بھی۔یعنی نیچے کی طرف سے کفّار اور اُوپر کی طرف سے یہود۔جب کہ نظریں کج ہونے لگ گئیں اور دل اُچھل اُچھل کر گلے تک آنے لگے اور تم میں سے کئی خد اکی نسبت بدظنیاں کرنے لگ گئے۔اُس وقت مؤمنوں کے ایمان کا امتحان لیا گیا اور مؤمنوں کو سر سے پیر تک ہلادیا گیا اور یاد کرو جبکہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض تھا اُنہوں نے کہنا شروع کیا ’’ اللہ اور اُس کے رسول نے ہم سے