دیباچہ تفسیر القرآن — Page 257
تم اس کا مقابلہ کرو ایسا نہ ہو کہ دشمن پورے حالات معلوم کرکے اِدھر حملہ کر دے۔اُس بیمار صحابی نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔تب حضرت صفیہؓ نے خود ایک بڑا بانس لے کر اُس شخص کا مقابلہ کیا اور دوسری عورتوں کی مدد سے اُس کو مارنے میں کا میاب ہو گئیں۔۲۸۲؎ آخر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ یہودی تھا اور بنو قریظہ کا جاسوس تھا۔تب تو مسلمان اور بھی زیادہ گھبرا گئے اور سمجھے کہ اب مدینہ کی یہ طرف بھی محفوظ نہیں۔مگر سامنے کی طرف سے دشمن کا اتنا زور تھا کہ اب وہ اس طرف کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں کر سکتے تھے لیکن باوجود اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی حفاظت کو مقدم سمجھا اور جیساکہ اُوپر لکھا جا چکا ہے بارہ سَو سپاہیوں میں سے پانچ سَو کو عورتوں کی حفاظت کے لئے شہر میں مقرر کر دیا اور خندق کی حفاظت اور اٹھارہ بیس ہزار لشکر کے مقابلہ کے لئے صرف سات سَو سپاہی رہ گئے۔اِس حالت میں بعض مسلمان گھبرا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! حالات نہایت خطرناک ہو گئے ہیں۔اب بظاہر مدینہ کے بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی، آپ اِس وقت خدا تعالیٰ سے خاص طور پر دعا کریں اور ہمیں بھی کوئی دعا سکھلائیں جس کے پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کا فضل ہم پر نازل ہو۔آپ نے فرمایا تم لوگ گھبرائو نہیں تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرو کہ تمہاری کمزوریوں پر وہ پردہ ڈالے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کرے اور گھبراہٹ کو دور فرمائے۔اور پھر آپ نے خود بھی اس طرح دعا فرمائی۔اَللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتٰبِ سَرِیْعَ الْحِسَابِ اِھْزِمِ الْاَحْزَابَ اَللّٰھُمَّ اھْزِمْھُمْ وَزَلْزِلْھُمْ۲۸۳؎ اور اسی طرح یہ دعا فرمائی۔یَا صَرِیْخَ الْمَکْرُوْبِیْنَ یَاَمُجِیْبَ الْمُضْطَرِّیْنَ اکْشِفَْ ھَمِّیْ وَ غَمِّیْ وَکَرْبِیْ فَاِنَّکَ تَرٰی مَانَزَلَ بِیْ وَ بِاَصْحَابِیْ۲۸۴؎ اے اللہ! جس نے قرآن کریم مجھ پر نازل کیا ہے جو بہت جلدی اپنے بندوں سے حساب لے سکتا ہے یہ گروہ جو جمع ہوکر آئے ہیں اِن کو شکست دے۔اے اللہ! میں پھر عرض کرتا ہوں کہ تو انہیں شکست دے اور ہمیں اِن پر غلبہ دے اور اُن کے ارادوںکو متزلزل کر دے۔اے درد مندوں کی دعا سننے والے! اے گھبراہٹ میں مبتلا لوگوں کی پکار کا جواب دینے والے! میرے غم اور میری فکر اور میری گھبراہٹ کو دُور کر کیونکہ تو اِن مصائب کوجانتا ہے جو مجھے اور میرے ساتھیوں کو درپیش ہیں۔