دیباچہ تفسیر القرآن — Page 246
اُونٹ چرانے جنگل کو گئے ہوئے تھے۔واپسی پر اُنہوں نے دیکھا کہ اُن کے چھیاسٹھ ساتھی میدان میں مرے پڑے ہیں۔دونوںنے آپس میں مشورہ کیا۔ایک نے کہاکہ ہمیں چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اِس حادثہ کی اطلاع دیں۔دسرے نے کہا جہاں ہماری جماعت کا سردار جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا امیر مقرر کیا تھاقتل کیا گیاہے میں اُس جگہ کو چھوڑ نہیں سکتا۔یہ کہتے ہوئے وہ تن تنہا کفّار پر حملہ آور ہوااور لڑتا ہوا مارا گیا۔دوسرے کو گرفتار کر لیا گیامگر بعد میں ایک قسم کی بناء پر جو قبیلہ کے ایک سردار نے کھائی تھی وہ چھوڑدیا گیا۔قتل ہونے والوں میں عامربن فہیرہ بھی تھے جو حضرت ابوبکرؓ کے آزاد کردہ غلام تھے۔اُن کا قاتل ایک شخص جبار بن سلمٰی تھاجو بعد میں مسلمان ہو گیا۔جبار کہا کرتا تھا کہ عامر کا قتل ہی میرے مسلمان ہونے کا موجب ہواتھا۔جبار کہتا ہے کہ جب میں جبار کو قتل کرنے لگاتو میں نے عامر کو یہ کہتے سنا فُزْتُ وَاللّٰہِخدا کی قسم! میں نے اپنی مراد کو پالیا۔اس کے بعد میں نے ایک شخص سے پوچھا۔جب مسلمان کو موت کا سامنا ہوتا ہے تو وہ ایسی باتیں کیوں کرتا ہے؟ اُس شخص نے جواب دیا کہ مسلمان اللہ کی راہ میں موت کو نعمت اور فتح سمجھتا ہے۔جبار پر اِس جواب کا ایسا اثر ہواکہ اُس نے اِسلام کا باقاعدہ مطالعہ شروع کر دیا اور بِالآخر مسلمان ہو گیا۔۲۷۶؎ ان دو اندوہناک واقعات کی خبر جس میں قریباً ۸۰ مسلمان ایک شرارت آمیز سازش کے نتیجے میں شہید ہو گئے تھے فوراً مدینہ پہنچ گئی۔مقتولین کوئی معمولی آدمی نہ تھے بلکہ حفّاظِ قرآن تھے۔وہ کسی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے تھے، نہ اُنہوں نے کسی کو دُکھ دیا تھا۔وہ کسی جنگ میں بھی شریک نہیں تھے بلکہ اللہ اور مذہب کا جھوٹا واسطہ دیکر وہ دھوکے سے دشمن کے تصرف میں دے دیئے گئے تھے۔اِن واقعات سے بِلا شک و شبہ ثابت ہوتا ہے کہ کفّار کو اِسلام سے سخت دشمنی تھی۔اس کے بِالمقابل اِسلام کے حق میں مسلمانوں کا جوش بھی نہایت گہرا اور پائدار تھا۔غزوہ بنی مصطلق جنگِ اُحد کے بعد مکّہ میں سخت قحط پڑا۔مکّہ والوں کو جو دشمنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی اور جو تدابیر وہ آپ کے برخلاف لوگوں کے درمیان نفرت پھیلانے کی ملک بھر میں کر رہے تھے،بالکل نظر انداز کر کے آنحضرت ﷺنے اِس سخت مصیبت کے وقت میں مکّہ کے غرباء کی امداد کے لئے ایک رقم جمع کی،مگر اِس خیرخواہی