دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 233

خود پر لگا اور خود کے کیل آپ کے سر پر گھس گئے اور آپ بیہوش ہو کر اُن صحابہؓ کی لاشوں پر جاپڑے جو آپ کے اِردگرد لڑتے ہوئے شہید ہو چکے تھے۲۶۲؎ اس کے بعد کچھ اور صحابہؓ آپ کے جسم کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے اوراُن کی لاشیں آپ کے جسم پر جا گریں۔کفّار نے آپ کے جسم کو لاشوں کے نیچے دبا ہوا دیکھ کر سمجھا کہ آپ مارے جا چکے ہیں۔چنانچہ مکہ کا لشکر اپنی صفوں کو درست کرنے کے لئے پیچھے ہٹ گیا۔جو صحابہؓ آپ کے گرد کھڑے تھے اور جن کو کفّار کے لشکر کا ریلا دھکیل کر پیچھے لے گیاتھا اُن میں حضرت عمرؓ بھی تھے۔جب آپ نے دیکھا کہ میدان سب لڑنے والوں سے صاف ہو چکا ہے تو آپ کو یقین ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں اور وہ شخص جس نے بعد میں ایک ہی وقت میں قیصر اور کسریٰ کا مقابلہ بڑی دلیری سے کیا اور اُس کا دل کبھی نہ گھبرایا اور کبھی نہ ڈرا وہ ایک پتھر پر بیٹھ کر بچوں کی طرح رونے لگ گیا۔اِتنے میں مالکؓ نامی ایک صحابی جو اِسلامی لشکر کی فتح کے وقت پیچھے ہٹ گئے تھے کیونکہ اُنہیں فاقہ تھا اور را ت سے اُنہوں نے کچھ نہیں کھایا تھا جب فتح ہو گئی تو وہ چند کھجوریں لے کر پیچھے کی طرف چلے گئے تاکہ اُنہیں کھا کر اپنی بھوک کا علاج کریں۔وہ فتح کی خوشی میں ٹہل رہے تھے کہ ٹہلتے ٹہلتے حضرت عمرؓ تک جا پہنچے اور عمرؓ کو روتے ہوئے دیکھ کر نہایت ہی حیران ہوئے اور حیرت سے پوچھا۔عمر! آ پ کو کیا ہوا؟ اِسلام کی فتح پر آپ کو خوش ہونا چاہئے یا رونا چاہئے؟ عمرؓ نے جواب میں کہا مالک ! شاید تم فتح کے معاً بعد پیچھے ہٹ آئے تھے تمہیں معلوم نہیں کہ لشکر کفّار پہاڑی کے دامن سے چکر کاٹ کر اِسلامی لشکر پر حملہ آوار ہوا اور چونکہ مسلما ن پر اگندہ ہو چکے تھے اُن کا مقابلہ کوئی نہ کر سکا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ سمیت اُن کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہوئے اور مقابلہ کرتے کرتے شہید ہو گئے۔مالکؓ نے کہا عمرؓ!! اگر یہ واقعہ صحیح ہے تو آپ یہاں بیٹھے کیوں رو رہے ہیں؟ جس دنیا میں ہمارا محبوب گیا ہے ہمیں بھی تو وہاں جانا چاہئے۔یہ کہا اور وہ آخری کجھور جو آپ کے ہاتھ میں تھی جسے آپ منہ میں ڈالنے ہی والے تھے اُسے یہ کہتے ہوئے زمین پر پھینک دیا کہ اے کجھور! مالک اور جنت کے درمیان تیرے سِوا اور کونسی چیز روک ہے۔یہ کہا اور تلوار لے کر دشمن کے لشکر میں گھس گئے۔تین ہزار آدمی کے مقابلہ میں ایک آدمی کر ہی کیا سکتا تھا مگر خد ائے واحد کی پرستا رروح ایک بھی بہتوں