دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 220

بے انصافی روک دی گئی۔عورتوں کے حقوق کو قائم کیا گیا۔شریعت کے مطابق تمام مالداروں پر ٹیکس مقرر کئے گئے جو غرباء پر خرچ کئے جاتے تھے اور شہر کی عام حالت کی ترقی کے لئے بھی استعمال کئے جاتے تھے۔مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کی گئی۔لاوارثوں کے لئے باقاعدہ تعلیموں کا انتظام کیا گیا۔لین دین میں تحریر اور معاہدہ کی پابندیاں مقرر کی گئیں۔غلاموں پر سختی کو سختی سے روکا جانے لگا۔صفائی اور حفظانِ صحت کے اصول پر زور دیا جانے لگا۔مردم شماری کی ابتدا کی گئی۔گلیوں اور سڑکوں کے چوڑا کرنے کے احکام جاری کئے گئے۔سڑکوں کی صفائی کے متعلق احکام جاری کئے گئے۔غرض عائلی اور شہری زندگی کے تمام اصول مدوّن کئے گئے اوراُن کو باقاعدگی سے جاری کرنے کے لئے تدابیر اختیار کی گئیں اور عرب پہلی دفعہ منظم اور مہذب سوسائٹی کے اصول سے روشناس ہوئے۔اِدھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے لئے ایک ایسا قانون پیش کر رہے تھے جو نہ صرف اُس زمانہ کے لئے بلکہ ہمیشہ کیلئے اور نہ صرف اُن کے لئے بلکہ دنیا کی دوسری اقوام کیلئے بھی عزت، شرف، امن اور ترقی کا موجب تھا۔اُدھر مکہ کے لوگ اِسلام کے خلاف باقاعدہ جنگ کی تیاریاں کرنے میں مشغول تھے جس کا نتیجہ بدر کی جنگ کی صورت میں ظاہر ہوا۔قریش کے تجارتی قافلہ کی آمد اور غزوہ بدر ہجرت کے تیرھویں مہینے میںشام سے ایک تجارتی قافلہ ابو سفیان کی سرگردگی میں آ رہا تھا کہ اُس کی حفاظت کے بہانہ سے مکہ والوں نے ایک زبردست لشکر مدینہ کی طرف لے جانے کا فیصلہ کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اِس کی اطلاع مل گئی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ پر وحی ہوئی۔اب وقت آگیا ہے کہ دشمن کے ظلم کا اُس کے اپنے ہتھیار کے ساتھ جواب دیا جائے۔چنانچہ آپ مدینہ کے چند ساتھیوں کو لے کر نکلے۔جب آپ مدینہ سے نکلے ہیں اُس وقت تک یہ ظاہر نہ تھا کہ آیا مقابلہ قافلہ والوں سے ہو گا یا اصل لشکر سے، اِس لئے تین سَو آدمی آپؐ کے ساتھ مدینہ سے نکلے۔یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ قافلہ سے مراد مال سے لدے ہوئے اُونٹ تھے بلکہ مکہ والے اِن قافلوں کے ساتھ ایک مضبوط فوجی جتھہ بھجوایا کرتے تھے۔کیونکہ وہ اِن قافلوں کے ذریعہ سے