دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 221

مسلمانوں کو مرعوب بھی کرنا چاہتے تھے۔چنانچہ اِس قافلہ سے پہلے دو قافلوں کا ذکر تاریخ میں آتا ہے کہ اُن میں سے ایک کی حفاظت پر دو سَو سپاہی مقرر تھا اور دوسرے کی حفاظت پر تین سَو سپاہی مقررتھا۔پس اِن حالات میں مسیحی مصنفوں کا یہ لکھنا کہ تین سَو سپاہی لے کر آپ مکہ کے ایک نہتے قافلہ کو لوٹنے کے لئے نکلے تھے محض دھوکا دہی کے لئے ہے۔یہ قافلہ چونکہ بہت بڑا تھا اِس لئے پہلے قافلوں کے حفاظتی دستوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا چاہئے کہ اُس کے ساتھ چار پانچ سَو سوار ضرور موجود ہو گا۔اتنے بڑے حفاظتی دستہ کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے اگر اِسلامی لشکر جو صرف تین سَو آدمیوں پر مشتمل تھا اور جن کے پاس پورا سازو سامان بھی نہ تھا نکلا تو اُسے لوٹ کا نام دینا محض تعصب، ضد اور بے انصافی ہی کہلا سکتا ہے۔اگر صرف اس قافلہ کا سوال ہوتاتب بھی اُس سے لڑائی جنگ ہی کہلاتی اور جنگ بھی مدافعانہ جنگ کیونکہ مدینہ کا لشکر کمزور تھا اور صرف اِسی فتنہ کو دور کرنے کے لئے نکلا تھا جس کی اِردگرد کے قبائل کو شرارت پر اُکسا کر مکہ کے قافلے بنیاد رکھ رہے تھے۔مگر جیساکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ الٰہی منشاء بھی تھا کہ قافلہ سے نہیں بلکہ اصل مکی لشکر سے مقابلہ ہو اور صرف مسلمانوں کے اخلاص اور اُن کے ایمان کو ظاہر کرنے کے لئے پہلے سے اِس امر کا اظہار نہ کیا گیا۔جب مسلمان بغیر پوری تیاری کے مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے تو کچھ دور جا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ پر ظاہر کیا کہ الٰہی منشاء یہی ہے کہ مکہ کے اصل لشکر سے مقابلہ ہو۔لشکر کے متعلق مکہ سے جو خبریں آچکی تھیں اُن سے معلوم ہوتا تھا کہ لشکر کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے اور پھر وہ سب کے سب تجربہ کار سپاہی تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آنے والے لوگ صرف ۳۱۳ تھے اور اُن میں سے بھی بہت سے ایسے تھے جو لڑائی کے فن سے ناواقف تھے۔پھر سامانِ جنگ بھی اُن کے پاس پورا نہ تھا۔اکثر یا توپیدل تھے یا اُونٹوں پرسوار تھے۔گھوڑا صرف ایک تھا۔اِس چھوٹے سے لشکر کے ساتھ جو بے سروسامان بھی تھا ایک تجربہ کار دشمن کا مقابلہ جو تعداد میں اُن سے تگنے سے بھی زیادہ تھا نہایت ہی خطرناک بات تھی اس لئے آپ نے نہ چاہا کہ کوئی شخص اُس کی مرضی کے خلاف جنگ پر مجبور کیا جائے۔چنانچہ آپ نے اپنے ساتھیوں کے سامنے یہ سوال پیش کیا کہ اب قافلہ کا کوئی سوال نہیں صرف فوج ہی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور یہ کہ وہ اِس بارہ