دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 10

کھانے تک کی چیزیں زبردستی اُٹھا لائو۔۱۲؎ اسی طرح ویدوں میں چاند، سورج، آگ، پانی اوراِندر سے یہاں تک کہ گھاس سے بھی یہ دعائیں کی گئی ہیں کہ غیر ویدک دھرمی لوگوں کو تباہ و برباد کردیا جائے۔چنانچہ لکھا ہے کہ : ’’ اے آگ! تُو ہمارے مخالفوں کو جلا کر راکھ کر دے۔‘‘ ۱۳؎ ’’ اے اِندر! تُو ہمارے مخالفوں کو چیر پھاڑ ڈال اور جو ہم سے نفرت رکھتے ہیں انہیں تتر بتر کر دے۔‘‘۱۴؎ ’’ اے مخالفو! تم سر کٹے ہوئے سانپوں کی طرح بے سر اور اندھے ہو جائو اس کے بعد پھر اِندر دیوتا تمہارے چیدہ چیدہ لوگوں کو تباہ کر دے۔‘‘۱۵؎ ’’ اے وبھ گھاس! تُو ہمارے مخالفوں کو جلادے اور تباہ کر اور جس طرح تُو پیدا ہوتے وقت زمین کو چیر کر باہر نکل آتا ہے ویسے ہی تُو ہمارے مخالفوں کے سروں کو چیرتا ہوا اوپر کو نکل کر اُن کو تباہ کر کے زمین پر گرا دے۔‘‘ ۱۶؎ پھر ہندو دھرم میں یہ بھی تعلیم موجود ہے کہ غیرویدک دھرمی لوگوں کے ساتھ بات چیت بھی نہ کرو۔۱۷؎ اگر کوئی ویدوں پر اعتراض کرے تو اُسے ملک سے باہر نکال د ویعنی حبس دوام کی سزا دو۔۱۸؎ کنفیوشس ازم اور زردشت مذہب بھی قومی مذہب تھے۔اُنہوں نے کبھی بھی دنیا کو اپنا مخاطب نہ سمجھا نہ دنیا کو تبلیغ کرنے کی کوشش کی۔جس طرح ہندو مذہب کے مطابق ہندوستان خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کا ملک تھا اسی طرح کنفیوشس ازم کے مطابق چین آسمانی بادشاہت کا مظہر تھا اور زرتشتیوں کے نزدیک ایران آسمانی بادشاہت کا مظہر تھا۔اس اختلاف کے ہوتے ہوئے یا تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ دنیا کے پیدا کرنے والے کئی خدا ہیں اور یا یہ ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے لئے اس اختلاف کو مٹا دینا ضروری تھا۔خدا ایک ہے اب زمانہ اس قدر ترقی کرچکا ہے کہ شاید مجھے اس بات کے متعلق کچھ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ اس دنیا کو پیدا کرنے والا اگر کوئی ہے تو وہ