دیباچہ تفسیر القرآن — Page 11
یک ہی ہے۔اسرائیلیوں، ہندوئوں، چینیوں اور ایرانیوں کا خدا عربوں، افغانوں، یورپینوں، منگولیوں اور سامی نسل کے لوگوں کے خدا سے کوئی مختلف خدا نہیں۔اس دنیا میں ایک قانون جاری ہے۔آسمان سے پاتال تک ایک ہی نظام کی کڑیاں ہمیں نظر آتی ہیں۔درحقیقت سائنس کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ تمام طبیعاتی اور میکینکل تغیرات ایک ہی سلسلہ کی کڑیاں ہیں اور یاتو بقول مادی علماء کے یہ ساری کائنات ایک قسم کی حرکت کا نتیجہ ہے اور یا پھر اس ساری کائنات کو بنانے والا ایک ہی ہاتھ ہے۔اس حقیقت کو مدنظر رکھنے کے بعد یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اسرائیلیوں کا خدا کون ہے اور عربوں کا خدا کون ہے اور ہندوئوں کا خدا کون ہے؟ اور اگر خدا ایک ہے تو پھر یہ مختلف مذاہب کیوں پیدا ہوئے؟ کیا وہ مذاہب صرف بنی نوع انسان کی دماغی اختراع سے تھے اس لئے ہر قوم نے اپنا اپنا خدا تجویز کر لیا؟ اگر نہیں تو پھر اس اختلاف کی وجہ کیا تھی؟ اور کیا پھر اس اختلاف کا ہمیشہ کے لئے جاری رہنا دنیا کے لئے مفید ہو سکتا تھا؟ مختلف ادیان کے انسانی دماغ کی اختراع نہ ہونے کی وجوہ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا یہ مذاہب بنی نوع انسان کی دماغی اختراع کا نتیجہ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں اور ہرگزنہیں اور اس کی وجوہ مندرجہ ذیل ہیں:۔جو مذاہب دنیا میں قائم ہوگئے ہیں جب ہم ان کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو مندرجہ ذیل امور ہمیں نظر آتے ہیں۔۱۔تمام مذاہب کے بانی دُنیوی طور پر کمزور اور نادار قسم کے آدمی تھے اور کوئی طاقت ان کو حاصل نہ تھی مگر باوجود اس کے انہوں نے دنیا کے چھوٹے بڑوں کو مخاطب کیا اور وہ اور ان کے اتباع نہایت ادنیٰ حالت سے نکل کر اعلیٰ حالت تک پہنچ گئے۔یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ کوئی طاقتور ہستی ان کے پیچھے کام کر رہی تھی۔پاکیزہ زندگی ۲۔تمام کے تمام بانیانِ مذاہب ایسے ہیں کہ ان کی دعویٰ سے پہلے کی زندگی ان کے دشمنوں کے نزدیک بھی پاک تھی اب یہ کیونکر خیال کیا جا