دیباچہ تفسیر القرآن — Page 194
بے انتہاء کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے میں یہ لیتا ہوں تو عیسائیت کی یاد اُس کے دل میں پھر تازہ ہو گئی۔اُس نے محسوس کیا کہ اُس کے سامنے خدا کا ایک نبی بیٹھا ہے جو اسرائیلی نبیوں کی سی زبان میں باتیں کرتا ہے۔اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم کہا ں کے رہنے والے ہو؟ جب اُس نے کہا نینوا کا۔تو آپ نے فرمایا وہ نیک انسان یونس جو متی کا بیٹا تھا اور نینوا کا باشندہ وہ میری طرح خد اکا ایک نبی تھا۔پھر آپ نے اُس کو اپنے مذہب کی تبلیغ شروع کی۔عداس کی حیرانی چند ہی لمحوں میںتعجب سے بدل گئی۔تعجب ایمان میں تبدیل ہو گیا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ اجنبی غلام آنسوئوں سے بھری ہوئی آنکھوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گیا اور آپ کے سر اور ہاتھوں اور پیروں کو بوسہ دینے لگا۔۲۱۶؎ عداس کی باتوں سے فارغ ہو کر آپ اللہ تعالیٰ کی طرف مخاطب ہوئے اور آپ نے خدا سے یوں دعا مانگی۔اَللّٰھُمََّ اِلَیْکَ اَشْکُوْ ضُعْفَ قُوَّتِیْ وَقِلَّۃَ حِیْلَتِیْ وَ ھَوَ انِیْ عَلَی النَّاسِ یَااَرحَمَ الرَّاحِمِیْنَ اَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ وَاَنْتَ رَبِّیْ اِلٰی مَنْ تَکِلُنِیْ اِلٰی بَعِیْدٍ یَتَجَھَّمُنِیْ اَمْ اِلٰی عَدُوٍّمَلَکْتَہٗ اَمْرِیْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ بِکَ عَلَیَّ غَضَبٌفَلاَ اُبَالِیْ وَلٰـکِنْ عَافِیَتُکَ ھِیَ اَوْسَعُ لِیْ۔اَعُوْذُ بِنُوْرِ وَجْھِکَ الَّذِیْ اَشْرَقَتْ لَہُ الظُّلُمٰتُ وَصَلُحَ عَلَیْہِ اَمْرُالدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ مِنْ اَنْ تُنَزِّلَ بِیْ غَضَبَکَ اَوْیَحِلَّ عَلَیَّ سَخَطُکَ لَکَ الْعُقْبٰی حَتّٰی تَرْضٰی وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلاَّبِکَ ۲۱۷؎ یعنی اے میرے ربّ! میں تیرے ہی پاس اپنی کمزوریوں اور اپنے سامانوں کی کمی اور لوگوں کی نظروں میں اپنے حقیر ہونے کی شکایت کرتا ہوں۔لیکن تو غریبوں اور کمزوروں کا خدا ہے اور تو میرا بھی خد اہے تو مجھے کس کے ہاتھوں میں چھوڑے گا۔کیا اجنبیوں کے ہاتھوں میں جو مجھے اِدھر اُدھر دھکیلتے پھریں گے یا اُس دشمن کے ہاتھ میں جو میرے وطن میں مجھ پر غالب ہے۔اگر تیرا غضب مجھ پر نہیں تو مجھے اِن دشمنوں کی کوئی پرواہ نہیں۔تیرا رحم میرے ساتھ ہے اور تیری عافیت میرے لئے زیادہ وسیع ہے۔میں تیرے چہرہ کی روشنی میں پناہ چاہتا ہوں۔یہ تیرا ہی کام ہے کہ تو تاریکی کو