دیباچہ تفسیر القرآن — Page 193
قبول کر نے کے لئے تیار نہ ہوا۔عوام الناس نے بھی اپنے رئوساء کی اتباع کی اور خدا کے پیغام کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا۔دنیا داروں کی نگاہ میں بے سامان او ربے مدد گار نبی حقیر ہی ہوا کرتا ہے وہ تو اسلحہ اور فوجوں کی آواز سننا جانتے ہیں آپ کی نسبت باتیں تو پہنچ ہی چکی تھیں جب آپ طائف پہنچے اور انہوں نے دیکھا کہ بجائے اس کے کہ آپ کے ساتھ کوئی فوج اور جتھا ہوتا آپ صرف زید ہی کی ہمراہی میں طائف کے مشہور حصوں میں تبلیغ کرتے پھرتے ہیں تو دل کے اندھوں نے اپنے سامنے خد اکا نبی نہیں بلکہ ایک حقیر اور دھتکارا ہوا انسان پایا اور سمجھے کہ شاید اِس کو دکھ دینا اور تکلیف پہنچانا قوم کے رئوساء کی نظروں میں ہم کو معزز کر دے گا۔وہ ایک دن جمع ہوئے، کتے انہوں نے اپنے ساتھ لئے، لڑکوں کو اُکسایا اور پتھروں سے اپنی جھولیاں بھر لیںاور بیدردی سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھرائو کرنا شروع کیا۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہر سے دھکیلتے ہوئے باہر لے گئے۔آپ کے پائوں لہولہان ہوگئے اور زیدؓ آپ کو بچاتے ہوئے سخت زخمی ہوئے مگر ظالموں کا د ل ٹھنڈا نہ ہوا وہ آپ کے پیچھے چلتے گئے اور چلتے گئے جب تک شہر سے کئی میل دُور کی پہاڑیوں تک آپ نہ پہنچ گئے اُنہوں نے آپ کا پیچھا نہ چھوڑا۔جب یہ لوگ آپ کا پیچھا کر رہے تھے تو آپ اِس ڈر سے کہ خدا تعالیٰ کا غضب ان پر نہ بھڑک اُٹھے آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر دیکھتے اور نہایت الحاح سے دعا کرتے۔الٰہی! ا ِن لوگوں کو معاف کرکہ یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔۲۱۵؎ زخمی، تھکے ہوئے اور دنیا کے لوگوں کی طرف سے دھتکارے ہوئے آپ ایک انگورستان کے سایہ میں پناہ گزیں ہوئے۔یہ انگورستان مکہ کے دو سرداروں کا تھا۔یہ سردار اُس وقت اِس انگورستان میں تھے پُرانے اور شدید دشمن جنہوںنے دس سال تک آپ کی مخالفت میں اپنی زندگی گزاری تھی شاید اُس وقت اِس بات سے متأثر ہو گئے کہ ایک مکہ کے آدمی کو طائف کے لوگوں نے زخمی کیا ہے یا شاید وہ گھڑی ایسی گھڑی تھی جب نیکی کا بیج اُن کے دلوں میں سر اُٹھا رہا تھااُنہوں نے ایک تھال انگوروں کا بھرا اور اپنے غلام عداس کو کہا کہ جائو اور اِن مسافرو ں کو اسے دو۔عداس نینوا کا رہنے والا ایک عیسائی تھا۔جب اُس نے یہ انگور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے اور آپ نے یہ کہتے ہوئے اُن انگوروں کو لیا کہ خد اکے نام پر جو