دیباچہ تفسیر القرآن — Page 188
اگر ایسا ہے تو پہلے مجھے اپنی بہن اور بہنوئی سے نپٹنا چاہئے۔یہ سوچتے ہوئے وہ اپنی بہن کے گھر کی طرف چلے جب دروازہ پر پہنچے تو انہیں اندر سے خوش الحانی سے کسی کلام کے پڑھنے کی آوازیں آئیں۔یہ پڑھنے والے خبابؓ جو اُن کی بہن اور اُن کے بہنوئی کو قرآن شریف سکھلا رہے تھے۔عمرؓ تیزی سے گھر میں داخل ہوئے۔اُن کے پائوں کی آہٹ سن کر خبابؓ تو کسی کونہ میں چھپ گئے اور اُن کی بہن نے جن کا نام فاطمہؓ تھا قرآن شریف کے وہ اَوراق جو اُس وقت پڑھے جار ہے تھے، چھپا دئیے۔حضرت عمرؓ کمرہ میں داخل ہوئے تو غصہ سے پوچھا میں نے سنا ہے کہ تم اپنے دین سے پھر گئے ہو؟ اور یہ کہہ کر اپنے بہنوئی پر جو اُن کے چچا زاد بھائی بھی تھے حملہ آور ہوئے۔فاطمہؓ نے جب دیکھا کہ ان کے بھائی عمرؓ ان کے خاوند پر حملہ کرنے لگے تو وہ دوڑ کر اپنے خاوند کے آگے کھڑی ہو گئیں۔عمرؓ ہاتھ اُٹھا چکے تھے اُن کا ہاتھ زور سے اُن کے بہنوئی کے منہ کی طرف آرہا تھا اور اب اس ہاتھ کو روکنا اُن کی طاقت سے باہر تھا مگر اب ان کے ہاتھ کے سامنے ان کے بہنوئی کی بجائے ان کی بہن کا چہرہ تھا۔عمرؓ کا ہاتھ زور سے فاطمہؓکے چہرہ پر گرا اور فاطمہؓ کے ناک سے خون کے تراڑے ۲۱۰؎ بہنے لگے۔فاطمہؓ نے مار تو کھا لی مگر دلیری سے کہا عمر! یہ بات سچ ہے کہ ہم مسلمان ہو چکے ہیں اور یاد رکھیئے کہ ہم اِس دین کو نہیں چھوڑ سکتے آپ سے جو کچھ ہو سکتا ہو کر لیں۔عمرؓ ایک بہادر آدمی تھے ظلم نے اُن کی بہادری کو مٹا نہیں دیا تھا۔ایک عورت اور پھر اپنی بہن کو اپنے ہی ہاتھ سے زخمی دیکھا تو شرمندگی اور ندامت سے گھڑوں پانی پڑ گیا۔بہن کے چہرہ سے خون بہہ رہا تھااور عمرؓ کے دل سے اب ان کا غصہ دور ہو چکا تھا۔اپنی بہن سے معافی مانگنے کی خواہش زور پکڑ رہی تھی اور تو کوئی بہانہ نہ سُوجھا بہن سے بولے اچھا! لائو مجھے وہ کلام تو سنائو جو تم لوگ ابھی پڑھ رہے تھے۔فاطمہؓ نے کہا میں نہیں دکھائوں گی۔کیونکہ آپ ان اَوراق کو ضائع کر دو گے۔عمر نے کہا نہیں بہن میں ایسا نہیں کروں گا۔فاطمہ نے کہا تم تو نجس ہو پہلے غسل کرو پھر دکھائوں گی عمرؓ ندامت کی شدت کی وجہ سے سب کچھ کرنے کے لیے تیار تھے۔وہ غسل پر بھی راضی ہو گئے۔جب غسل کر کے واپس آئے تو فاطمہؓ نے اُن کے ہاتھ میں قرآن کریم کے اَوراق دے دئیے۔یہ قرآن کریم کے اَوراق سورہ طٰہٰ کی کچھ آیات تھیں۔جبوہ اسے پڑھتے ہوئے اِس آیت پر پہنچے