دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 189

۲۱۱؎ یقینا میں ہی اللہ ہوں اور کوئی معبود نہیں صرف میں ہی معبود ہوں۔پس اے مخاطب! میری عبادت کر اور نماز پڑھ اور اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ مل کر میری عبادت کو قائم کر۔رسمی عبادت نہیں بلکہ میری بزرگی کو دنیا میں قائم کرنے والی عبادت۔یاد رکھ کہ اِس کلام کو قائم کرنے والی گھڑی آرہی ہے میں اس کے ظاہر کرنے کے سامان پیدا کر رہا ہوں جن کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ہر ایک جان کو جیسے جیسے وہ کام کرتی ہے اس کے مطابق بدلہ مل جائے گا۔حضرت عمرؓ جب اس آیت پر پہنچے تو بے اختیار ان کے منہ سے نکل گیا یہ کیساعجیب اور پاک کلام ہے۔خبابؓ نے جب یہ الفاظ سنے تو وہ اس جگہ سے جہاں چھپے ہوئے تھے باہر نکل آئے اور کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی دعا کا نتیجہ ہے۔مجھے خد اکی قسم! میں نے کل ہی آپ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا تھا کہ الٰہی! عمر بن الخطاب یا عمرو بن ہشام میں سے کسی ایک کو اسلام کی طرف ضرور ہدایت بخش۔عمرؓ کھڑے ہوگئے اورکہا مجھے بتائو کہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) کہاں ہیں؟ جب آپ کو بتایا گیا کہ آپ دار ارقم میں رہتے ہیں تو آپ اُسی طرح ننگی تلوارلیے ہوئے وہاں پہنچے اور دروازہ پر دستک دی۔صحابہؓ نے دروازہ کی دراڑوں میںسے دیکھا تو انہیں عمرؓ ننگی تلوار لئے کھڑے نظر آئے۔وہ ڈرے کہ ایسا نہ ہو دروازہ کھول دیں تو عمرؓ اندر آکر کوئی فساد کریں۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوا کیا ؟دروازہ کھول دو۔عمرؓ اِسی طرح تلوار لیے اندر داخل ہوئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور فرمایا عمر! کس ارادہ سے آئے ہو؟ عمرؓ نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ !میں مسلمان ہونے آیا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر بلند آواز سے اللّٰہُ اَکْبَرُ کہا یعنی اللہ سب سے بڑا ہے اور آپ کے سب ساتھیوں نے بھی یہی الفاظ زور سے دُہرائے یہاں تک کہ مکہ کی پہاڑیاں گونج اُٹھیں۲۱۲؎ اور تھوڑی ہی دیر میں یہ خبر مکہ میں آگ کی طرح پھیل گئی اور عمرؓ سے بھی وہی سختی کا برتائو ہونا شروع ہو گیا جو پہلے دوسرے صحابہؓ سے ہوتا تھا۔مگر وہی عمرؓ جو پہلے مارنے اور قتل کرنے میں مزہ اُٹھایا کرتے تھے اب مار کھانے اور پیٹے جانے میں لذت حاصل کرنے لگے۔چنانچہ خود عمرؓ کا بیان ہے کہ ایمان لانے کے بعد میں مکہ کی گلیوں میں ماریں ہی کھاتا رہتا تھا۔